سورة البقرة - آیت 92

وَلَقَدْ جَاءَكُم مُّوسَىٰ بِالْبَيِّنَاتِ ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِن بَعْدِهِ وَأَنتُمْ ظَالِمُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور پھر دیکھو، یہ واقعہ ہے کہ موسیٰ سچائی کی روشن دلیلوں کے ساتھ تمہارے پاس آیا لیکن جب (چالیس دن کے لیے) تم سے الگ ہوگیا تو تم بچھڑے کے پیچھے پڑگئے، اور ایسا کرتے ہوئے یقینا تم حق سے گزر گئے تھے

تفسیر تیسیر القرآن - مولانا عبدالرحمٰن کیلانی

[١٠٩] یہ واضح معجزات صرف عصائے موسیٰ اور یدبیضا ہی نہ تھے۔ بلکہ بے شمار دوسرے معجزات بھی تھے جیسے سمندر کا پھٹ جانا، اور فرعون کی غرقابی۔ چٹان سے بارہ چشموں کا پھوٹ نکلنا، جنگل میں من و سلویٰ کا نزول وغیرہ وغیرہ۔ اتنے واضح معجزات دیکھنے کے بعد بھی تم اللہ کی الوہیت پر ایمان نہ لائے اور موسیٰ کی غیر حاضری میں تمہیں تھوڑا سا موقع ملا تو فوراً پھر سے بچھڑے کی پرستش شروع کردی۔ اس سے بڑھ کر اور کیا ظلم ہوسکتا ہے؟