سورة النسآء - آیت 166

لَّٰكِنِ اللَّهُ يَشْهَدُ بِمَا أَنزَلَ إِلَيْكَ ۖ أَنزَلَهُ بِعِلْمِهِ ۖ وَالْمَلَائِكَةُ يَشْهَدُونَ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ شَهِيدًا

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

(اے پیغمبر ! اگر یہ لوگ تمہاری سچائی سے انکار کرتے ہیں، تو انکار کریں) لیکن اللہ نے جو کچھ تم پر نازل کیا ہے اور (خدا کے) فرشتے بھی اس کی گواہی دیتے ہیں اور (جس بات پر اللہ گواہی دے تو) اللہ کی گواہی بس کرتی ہے

تسہیل البیان فی تفسیر القرآن - ام عمران شکیلہ بنت میاں فضل حسین

شان نزول: ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے كہ یہودیوں کی جماعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئی، آپ نے فرمایا: ’’تم اچھی طرح جانتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں انھوں نے کہا کہ ’’ہم نہیں مانتے‘‘ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ (طبری: ۹/ ۴۰۹) قرآن کریم علم الٰہی کا مخزن ہے وحی کے ذریعے انسان کو ایسی باتوں کا علم ہوا، جنھیں معلوم کرنے کا اس کے پاس کوئی ذریعہ نہ تھا انسانی عقل محدود ہے۔ خطا کی گنجائش رہتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ انسان کی فطرت عقل اور احساسات کو جانتا ہے اس لیے اس نے اپنے علم کی بنا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قرآن نازل کیا، جس میں مستقبل کے متعلق بہت سی پیش گوئیاں مذکور ہیں۔ مثلاً روم کا ایران پر غلبہ، دین اسلام کی تمام ادیان پر سربلندی قیامت سے پہلے اور مابعد کے حالات نشروحشر، جنت دوزخ کے متعلق معلومات وغیرہ یہ کلام وقت اور حالات کے تحت بدلا نہیں۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کے علم کی وسعت لا محدود ہے اسی طرح اس کلام کی پنہائیاں اور وسعتیں بھی لا محدود ہیں۔ فرشتوں کی گواہی: (۱) اس لحاظ سے قابل اعتبار ہے کہ کائنات کے جملہ امور اللہ کے اذن سے انہی کے ہاتھوں سر انجام پارہے ہیں۔ (۲) اللہ کا کلام بھی انہی کے ذریعے نازل ہوتا ہے اگرچہ فرشتوں کی گواہی ضروری نہیں بلکہ اللہ ہی ہر لحاظ سے کافی ہے کیونکہ وہ ہر چیز کا خالق و منتظم ہے۔ اللہ کی گواہی قادر مطلق ہونے کی حیثیت سے ہے اور فرشتوں کی گواہی اللہ کے مقرب ہونے کی حیثیت سے ہے اللہ تعالیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی دے رہے ہیں کہ لوگ مانیں یا نہ مانیں آپ اس پر جم جاؤ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ پہلے آنے والے لوگوں کو بھی دیکھ رہا ہے اور بعد میں آنے والوں کو بھی ۔