وَبَرَزُوا لِلَّهِ جَمِيعًا فَقَالَ الضُّعَفَاءُ لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا إِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ أَنتُم مُّغْنُونَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللَّهِ مِن شَيْءٍ ۚ قَالُوا لَوْ هَدَانَا اللَّهُ لَهَدَيْنَاكُمْ ۖ سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَجَزِعْنَا أَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِن مَّحِيصٍ
اور (دیکھو قیامت کے دن) سب لوگ اللہ کے روبرو حاضر ہوگئے۔ پس ناتوانوں نے سرکشوں سے کہا، ہم (دنیا میں) تمہارے پیچھے چلنے والے تھے، پھر کیا آج تم ایسا کرسکتے ہو کہ اللہ کے عذاب سے کچھ بچاؤ کردو؟ انہوں نے کہا اگر اللہ ہم پر بچاؤ کی کوئی راہ کھولتا تو ہم بھی تمہیں کوئی راہ دکھاتے۔ (ہم تو خود بھی عذاب میں پڑے ہوئے ہیں) خواہ جھیل لو، خواہ روئیں پٹیں، ہمارے لیے دونوں حالتیں برابر ہوگئیں، ہمارے لیے آج کسی طرح چھٹکارا نہیں۔
آیت (٢١) میں جماعتوں کی گمراہی کی ایک سب سے بڑی علت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ یعنی اپنے گمراہ سردروں امیروں اور بادشاہوں اور پیشواؤں کی اندھی تقلید و اطاعت کرنا اور خود اپنی عقل و بصیرت سے کام نہ لینا۔ فرمایا کیا تمہارے یہ پیشوا تمہیں نتائج اعمال کی گرفت سے بچا سکتے ہیں؟ قیامت کے دن جماعتوں کے کمزور افراد یعنی عوام اپنے اپنے پیشواؤں اور سرداروں سے کہیں گے۔ دنیا میں ہم نے تمہاری پیروی کی تھی، آج عذاب الہی کی پکڑ سے ہمارا بچاؤ کردو، وہ کہیں گے ہم خود اپنے کو نہیں بچا سکتے، تمہیں کس طرح بچائیں؟ آیت میں قریش مکہ کی طرف اشارہ ہے جو قوم کے سردار و پیشوا تھے، اور نہ صرف قبائل حجاز بلکہ تمام باشندگان عرب ان کے طور طریقہ کی پیروی کرتے تھے، جب انہوں نے دعوت اسلام کی مخالفت میں قدم اٹھایا تو تمام قبائل عرب نے ان کی پیروی کی۔ قرآن نے ہر جگہ ایمان کی خصوصیت یہ بتلائی ہے کہ سرتا سر سلامتی ہے۔ اور کفر کی پہچان یہ بتلائی ہے کہ سرتاسر اضطراب و محرومی ہے، یہی وجہ ہے کہ جنت کی نزدگی کے مرقع میں بھی سب سے زیادہ نمایاں یہی نظر آتی ہے۔ وہ سلامتی کی زندگی ہوگی اور وہاں ہر طرف سے سلامتی ہی کی پکاریں سنائیں دیں گی۔