سورة الانعام - آیت 90

أُولَٰئِكَ الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ ۖ فَبِهُدَاهُمُ اقْتَدِهْ ۗ قُل لَّا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا ۖ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرَىٰ لِلْعَالَمِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

یہ لوگ (جن کا ذکر اوپر ہوا) وہ تھے جن کو اللہ نے (مخالفین کے رویے پر صبر کرنے کی) ہدایت کی تھی، لہذا (اے پیغمبر) تم بھی انہی کے راستے پر چلو۔ (مخالفین سے) کہہ دو کہ میں تم سے اس (دعوت) پر کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ یہ تو دنیا جہان کے سب لوگوں کے لیے ایک نصیحت ہے، اور بس۔

تفسیر سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

(ف ٢) مقصد یہ ہے کہ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں اور انبیاء گزشتہ میں قطعا امتیاز موجود نہیں ۔ سب کی راہ ایک ہے منزل مقصود ایک ہے ، طریق تگ و دو ایک ہے ، سب ایک خدا کی طرف بلاتے ہیں ، سب شرک کی تردید کرتے ہیں ، سب توحید کی تلقین کرتے ہیں ، اور سب مخلص ہیں ، سوا اللہ کے اور کسی سے ضروری نہیں چاہتے ۔