سورة الملك - آیت 27

فَلَمَّا رَأَوْهُ زُلْفَةً سِيئَتْ وُجُوهُ الَّذِينَ كَفَرُوا وَقِيلَ هَٰذَا الَّذِي كُنتُم بِهِ تَدَّعُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

پھر جب یہ اس کو (یعنی قیامت کو) قریب سے دیکھیں گے تو (مارے ہیبت کے) ان کافروں کے چہرے بگڑجائیں گے اور ان سے کہا جائے گا یہی وہ عذاب ہے جس کے لیے تم (پیہم) تقاضا کیا کرتے تھے

تفسیرسراج البیان - محممد حنیف ندوی

(ف 1) قریش مکہ حضور (ﷺ) کے لئے ہمیشہ ہلاکت کے طالب رہتے اور دعا کرتے کہ کہیں ان پر ہمارے دیوتاؤں کا غضب بھی نازل ہو ۔ اس کا جواب مرحمت فرمایا ہے کہ آپ ان سے کہہ دیجئے کہ میں تو موت سے خائف نہیں ہوں۔ میں اور میری جماعت خندہ پیشانی موت کا خیر مقدم کریگی ہم کو اللہ پر پورا پورا اعتماد ہے ۔ ہمیں وہ ہلاکت وفناکا ہدف بنائے خواہ رحمت وکرم سے نوازے اور ایک عرصہ تک مزید زندہ رکھے تمہیں اس سے کوئی فائدہ نہیں پہنچ سکتا ۔ سوال یہ ہے کہ تم لوگوں کو اس عذاب سے جو مقدرات میں سے ہے کون بچا سکے گا ۔جب موت تمہارے سامنے آغوش کھولے آکھڑی ہوگی اور جہنم کے شعلے تمہاری جانب لپک رہے ہوں گے اس وقت تم کو کون اپنی پناہ میں لے گا ۔ ہمارا ایمان اس خدائے رحمان پر ہے جس نے اس دنیا میں بھی دستگیری فرمائی ہے اور عاقبت میں بھی وہ اپنے فیوض سے ڈھانپ لے گا ہمارا اس پر بھروسہ ہے اور اسی کو اس سلسلہ میں لائق اعتماد سمجھتے ہیں ۔ مگر عنقریب جب دنیا کروٹ لیگی تو تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کون گمراہ ہے اور کون راہ راست پر ۔ تم اللہ کی بوقلمون نعمتوں سے صبح وشام استفادہ کرتے ہو ۔ وہ اگر تم سے یہ استعداد یہ استفادہ کو چھین لے تو بتاؤ تم کیا کرو گے۔ کیا اس زندگی کے لوازم کے لئے تم سراپا اس کے محتاج نہیں ہو۔ حل لغات : زُلْفَةً۔ قریب ۔