سورة الكهف - آیت 78

قَالَ هَٰذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ ۚ سَأُنَبِّئُكَ بِتَأْوِيلِ مَا لَمْ تَسْتَطِع عَّلَيْهِ صَبْرًا

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

تب موسیٰ کے ساتھی نے کہا بس اب مجھ میں اور تم میں جدائی کا وقت آگیا۔ ہاں جن باتوں پر تم سے صبر نہ ہوسکا ان کی حقیقت تمہیں بتلا دیتا ہوں۔

تفسیرسراج البیان - محممد حنیف ندوی

خضر (علیہ السلام) کے جوابات : (ف2) ان آیات میں حضرت خضر (علیہ السلام) نے جناب موسیٰ (علیہ السلام) کی حیرانیوں کو دور کیا ہے ، اور واقعات کے باطن کی طرف اشارہ کیا ہے ، یعنی اس حقیقت سے آگاہ فرمایا ہیں کہ منصب نبوت اور قضاء وفیصلہ کے لئے کس قدر دوربینی وژوف نگاہی کی ضرورت ہے ، بسا اوقات واقعات کا ظاہر غلط طریق کار کی جانب راہنمائی کرتا ہے ، اور اس سے غلط نتائج مرتب ہوتے ہیں یہ حضرت موسیٰ پر چونکہ امت کی ذمہ داریاں عائد ہونے والی تھیں ، اس لئے ان کے لئے اس نوع کی علمی تربیت ضروری تھی تاکہ اس منصب کی اہمیت میں سے کما حقہ آگاہ ہوسکیں ۔