وَبَرَزُوا لِلَّهِ جَمِيعًا فَقَالَ الضُّعَفَاءُ لِلَّذِينَ اسْتَكْبَرُوا إِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ أَنتُم مُّغْنُونَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللَّهِ مِن شَيْءٍ ۚ قَالُوا لَوْ هَدَانَا اللَّهُ لَهَدَيْنَاكُمْ ۖ سَوَاءٌ عَلَيْنَا أَجَزِعْنَا أَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِن مَّحِيصٍ
اور (دیکھو قیامت کے دن) سب لوگ اللہ کے روبرو حاضر ہوگئے۔ پس ناتوانوں نے سرکشوں سے کہا، ہم (دنیا میں) تمہارے پیچھے چلنے والے تھے، پھر کیا آج تم ایسا کرسکتے ہو کہ اللہ کے عذاب سے کچھ بچاؤ کردو؟ انہوں نے کہا اگر اللہ ہم پر بچاؤ کی کوئی راہ کھولتا تو ہم بھی تمہیں کوئی راہ دکھاتے۔ (ہم تو خود بھی عذاب میں پڑے ہوئے ہیں) خواہ جھیل لو، خواہ روئیں پٹیں، ہمارے لیے دونوں حالتیں برابر ہوگئیں، ہمارے لیے آج کسی طرح چھٹکارا نہیں۔
کمزوروں کی فریاد بڑوں بڑوں سے : (ف2) جب لوگ اللہ تعالیٰ کے حضور جمع ہوں گے اور اپنے اپنے نامہ اعمال سے آگاہ ہوجائیں گے ، تو اسی وقت زمین کا وہ طبقہ جو ضعفاء اور کمزور لوگوں کا ہے ۔ کبراء اور بڑے بڑے لوگوں سے کہے گا ، ہم تو دنیا میں تمہارے تابع تھے ، جب تم نے عیش تکلیف کی محفلیں آراستہ کیں ، شراب و نے سے شغل کیا تو ہم نے تمہاری تقلید کی ، ہم سمجھے ، جب سمجھدار اور بڑے بڑے لوگ ان باتوں میں کوئی مضائقہ نہیں سمجھے ، تو واقعی یہ بات جائز ہوگی ، ہم نے بےخوفی سے گناہ کی جانب قدم بڑھائے ، کیا آج تمہارے یہاں شنوائی نہیں ہے ؟ تمہارا اثرورسوخ کیا ہوا ، کیا یہاں رشوت نہیں چلتی ، اور کیا تم ہمیں عذاب سے نہیں بچا سکو گے ، کبراء کہیں گے یہاں ہم اور تم دونوں برابر کے مجرم ہیں ، اس لئے سوائے صبر کے چارہ نہیں ، یہ وہ مقام ہے جہاں بڑے چھوٹے میں کوئی امتیاز نہیں رہتا ، اور سب ایک صف میں کھڑے کئے جاتے ہیں ۔