سورة ابراھیم - آیت 15
وَاسْتَفْتَحُوا وَخَابَ كُلُّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ
ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد
غرض پیغمبروں علیہم السلام نے فتح مندی طلب کی اور ہر سرکش ضدی (جس نے حق کا مقابلہ کیا تھا) نامراد ہوا۔
تفسیرسراج البیان - محممد حنیف ندوی
حل لغات: جَبَّارٍ: سرکش ومتکبر ، جبکہ اللہ کی صفت ہو ، تو اس کے معنی شکستہ حالات کو درست کرنے والے کے ہوتے ہیں ۔