سورة ابراھیم - آیت 8

وَقَالَ مُوسَىٰ إِن تَكْفُرُوا أَنتُمْ وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا فَإِنَّ اللَّهَ لَغَنِيٌّ حَمِيدٌ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور موسیٰ نے کہا اگر تم اور وہ سب جو زمین میں بستے ہیں کفران نعمت کریں تو (اللہ کو اس کی کیا پروا ہوسکتی ہے؟) اللہ کی ذات تو بے نیاز اور ستودہ ہے (لیکن محرومی و ہلاکت خود تمہارے لیے ہوگی)

تفسیر سراج البیان - مولانا حنیف ندوی

(ف ١) ان آیتوں میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے قوم کو زندگی کا پیغام دیا ہے ، اور فرمایا ہے کہ جب تک تم شاکر رہو گے ، اللہ کے حکموں کو مانتے رہو گے ، اسی کی اطاعت کا دم بھرتے رہو گے ، اور اس کے سوا ہر معبود کا انکار کرو گے ، تو اللہ تعالیٰ تمہیں سرفرازی عنایت کرے گا ، غنی رکھے گا ، نعمتیں زیادہ سے زیادہ دے گا ، اور اگر انکار کرو گے ، تو یاد رکھو ناشکری سے قوموں کو عذاب شدید دیا جاتا ہے ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ بھی سمجھا دیا کہ تمہاری عبادت اور اطاعت سے اللہ کو کوئی فائدہ نہیں ہے ، اس کی اطاعت سے دنیا تمہاری اطاعت کرے گی ، اور اگر تم اور تمہارے ساتھی انکار کردیں ، تو یاد رکھو ، اللہ ہے یا نہ ہے ، اور ہر طور پر قابل ستائش ومدح غرض یہ ہے کہ جس قدر تم میں بیداری ہوگی اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا ، اور جس قدر تم غفلت وبے اعتنائی سے کام لو گے ، اللہ کی رحمتوں سے دور رہو گے ۔ حل لغات : نباء : قصہ ، بات ۔ فاطر : بغیر استمداد کے پیدا کرنے والا ۔