سورة الانعام - آیت 123

وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا فِي كُلِّ قَرْيَةٍ أَكَابِرَ مُجْرِمِيهَا لِيَمْكُرُوا فِيهَا ۖ وَمَا يَمْكُرُونَ إِلَّا بِأَنفُسِهِمْ وَمَا يَشْعُرُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں وہاں کے مجرموں کے سرغنوں کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ اس (بستی) میں (مسلمانوں کے خلاف) سازشیں کیا کریں۔ (٥٥) اور وہ جو سازشیں کرتے ہیں، (درحقیقت) وہ کسی اور کے نہیں، بلکہ خود ان کے اپنے خلاف پڑتی ہیں، جبکہ ان کو اس کا احساس نہیں ہوتا۔

تفسیر السعدی - عبدالرحمٰن بن ناصر السعدی

پہلی قسم میں وہ لوگ شامل ہیں جو انتہائی بدبختی کے احوال سے بہرہ یاب ہوئے، بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا فِي كُلِّ قَرْيَةٍ أَكَابِرَ مُجْرِمِيهَا ﴾ ” اور اسی طرح کئے ہیں ہم نے ہر بستی میں گناہ گاروں کے سردار“ یعنی وہ قائدین اور رؤسا جن کا جرم بہت بڑا اور سرکشی بہت سخت ہوتی ہے ﴿لِيَمْكُرُوا فِيهَا ﴾ ” کہ حیلے کیا کریں وہاں“ یعنی فریب کاری، شیطان کے راستے کی طرف دعوت دینے، انبیاء و مرسلین اور ان کے پیروکاروں کے ساتھ قولی و فعلی جنگ و جدل کے ذریعے سے سازشیں کریں، مگر ان کی سازش اور فریب کاری انجام کار انہی کے خلاف جاتی ہے۔ وہ بھی چالیں چلتے ہیں اور اللہ تعالیٰ بھی چال چلتا ہے اور اللہ تعالیٰ بہترین چال چلنے والا ہے۔ اسی طرح اللہ تبارک و تعالیٰ کبار ائمہ ہدی اور بڑے بڑے فاضل لوگوں کو کھڑا کرتا ہے جو ان مجرموں کا مقابلہ کرتے ہیں، ان کے نظریات واقاویل کا جواب دیتے ہیں، اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہیں اور اس طرح وہ ان راستوں پر گامزن ہوتے ہیں جو انہیں ان کے مقصد تک پہنچاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کو اپنی مدد سے نوازتا ہے، ان کی رائے کو درست کرتا ہے، ان کو ثابت قدمی عطا کرتا ہے اور کامیابی ان کے اور ان کے دشمنوں کے مابین ادلتی بدلتی رہتی ہے۔ یہاں تک کہ انجام کا رفتح، نصرت اور غلبہ اہل ایمان کے حصہ میں آتا ہے۔ بڑے بڑے مجرم صرف حسد اور بغاوت کی بنا پر باطل پر قائم اور حق کو ٹھکرا رہے تھے اور کہتے تھے :﴿لَن نُّؤْمِنَ حَتَّىٰ نُؤْتَىٰ مِثْلَ مَا أُوتِيَ رُسُلُ اللَّـهِ ۘ﴾” ہم ہرگز نہ مانیں گے جب تک کہ نہ دیا جائے ہم کو جیسا کچھ دیا گیا ہے اللہ کے رسولوں کو“ یعنی نبوت اور رسالت یہ ان کی طرف سے محض اللہ تبارک و تعالیٰ پر اعتراض، ان کی خودپسندی اور اس حق کے مقابلے میں تکبر کا اظہار تھا جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیاء و رسل پر نازل فرمایا تھا، نیز اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان پر قدغن لگانی تھی تو اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے فاسد اعتراض کو رد کرتے ہوئے آگاہ فرمایا کہ یہ لوگ بھلائی کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ نیز یہ کہ ان لوگوں کا انبیاء و مرسلین بننا تو کجا ان میں تو کوئی ایسی چیزبھی نہیں جو ان کو اللہ کے نیک بندوں میں شمار کرنے کی موجب ہو۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :