سورة المآئدہ - آیت 20

وَإِذْ قَالَ مُوسَىٰ لِقَوْمِهِ يَا قَوْمِ اذْكُرُوا نِعْمَةَ اللَّهِ عَلَيْكُمْ إِذْ جَعَلَ فِيكُمْ أَنبِيَاءَ وَجَعَلَكُم مُّلُوكًا وَآتَاكُم مَّا لَمْ يُؤْتِ أَحَدًا مِّنَ الْعَالَمِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور اس وقت کا دھیان کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ : اے میری قوم ! اللہ کی اس نعمت کو یاد کرو جو اس نے تم پر نازل فرمائی ہے کہ اس نے تم میں نبی پیدا کیے، تمہیں حکمران بنایا، اور تمہیں وہ کچھ عطا کیا جو تم سے پہلے دنیا جہان کے کسی فرد کو عطا نہیں کیا تھا۔

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 20 اللہ تعالیٰ نے جناب موسیٰ علیہ الصلوۃ السلام اور ان کی قوم کو فرعون اور اس کی قوم کی غلامی سے نجات دلا کر ان پر احسان فرمایا چنانچہ موسیٰ اور ان کی قوم نے اپنے وطن بیت المقدس واپس جانے کا قصد کیا اور وہ بیت المقدس کے قریب پہنچ گئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر دشمن کے خلاف جہاد فرض کردیا تاکہ وہ ان سے اپنے علاقے خالی کروائیں۔ موسیٰ علیہ الصلوۃ و السلام نے ان کو وعظ و تذکیر کی تاکہ وہ جہاد کے عزم پر قائم رہیں۔ حضرت موسیٰ نے فرمایا : (اذکروا نعمۃ اللہ علیکم) ” تم پو اللہ نے جو احسان کئے ہیں انہیں یاد کرو۔“ یعنی اپنے دل اور زبان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نعمت کو یاد کرو، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر اس کی محبت کا باعث بنتا ہے اور عبادت کے لئے نشاط پیدا کرتا ہے (اذ جعل فیکم انبیآء) ” جب پیدا کئے اس نے تمہارے اندر نبی“ جو تمہیں ہدایت کی طرف بلاتے ہیں اور تمہیں ہلاکت سے ڈراتے ہیں اور تمہیں ابدی سعادت کے حصول پر آمادہ کرتے ہیں اور تمہیں وہ کچھ سکھاتے ہیں جو تم نہیں جانتے (وجعلکم ملوکاً) ” اور تم کو بادشاہ بنایا“ تم اپنے معاملات کے خود مالک تھے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں دشمن کی غلامی سے نجات دلائی اور تم اپنے معاملات کے خود مالک بن گئے اور تمہارے لئے اپنے دین کو قائم کرنا ممکن ہوگیا۔ (واتکم) ” اور تم کو عنایت کیا“ یعنی تمہیں دینی اور دنیاوی نعمتیں عطا کیں (مالم یوت احدا من العلمین) ” جو اس نے جہانوں میں سے کسی کو نہیں دیں“ کیونکہ وہ اس زمانے میں منتخب قوم تھی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے زیادہ باعزت تھی۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو وہ نعمتیں عطا کیں جو کسی اور کو عطا نہیں کیں، اللہ تعالیٰ نے ان کو وہ نعمتیں یاد دلائیں جو ایمان، اس کے ثبات، جہاد پر ان کی ثابت قدمی اور جہاد کے لئے آگے بڑھنے کی موجب ہیں۔ بنا بریں فرمایا : (یقوم ادخلوا الارض المقدسۃ) ” اے میری قوم ! ارض مقدسہ میں داخل ہوجاؤ“ یعنی سر زمین پاک میں (التی کتب اللہ لکم) ” جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دی ہے“ اللہ تعالیٰ نے ایسی خبر سے آگاہ فرمایا کہ اگر وہ مومن اور اللہ تعالیٰ کی خبر کی تصدیق کرنے والے ہوتے تو یقیناان کے دل اس خبر سے مطمئن ہوجاتے کہ اللہ تعالیٰ نے ارض مقدس میں ان کا داخل ہونا اور اپنے دشمن پر فتح حاصل کرنا لکھ دیا ہے۔ (ولا ترتد وا علی ادبارکم) ” اور نہ لوٹو اپنی ٹھوں کی طرف“ یعنی واپس نہ لوٹو (فتنقلبوا خسرین) ” پھرجا پڑو گے نقصان میں“ یعنی اپنے دشمنوں پر غلبہ حاصل نہ کرسکنے اور اپنے شہروں کو فتح نہ کرسکنے کی وجہ سے تم دنیا میں بھی گھاٹے میں رہو گے اور آخرت میں بھی اپنی نافرمانی کی وجہ سے ثواب سے محروم اور عذاب کے مستحق ہو کر خسارے میں رہو گے۔ انہوں نے (اس کے جواب میں) موسیٰ کو ایک ایسا جواب دیا جو ان کے ضعف قلب، ضعف جسم اور اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے بارے میں عدم اہتمام پر دلالت کرتا ہے (یموسی ان فیھا قوماً جبار ین) ” اے موسیٰ! اس میں ایک زبردست قوم ہے“ یعنی بہت طاقتور اور بہادر لوگ ہیں یعنی اس لئے وہ اس ملک میں ہمارے داخل ہونے سے موانع میں سے ہیں (آیت) ” اور ہم اس میں ہرگز داخل نہیں ہوں گے یہاں تک کہ وہ اس میں سے نکل جائیں۔ پس اگر وہ اس میں سے نکل جائیں، تو ہم اس میں داخل ہوجائیں گے“ اور ان کا یہ قول ان کی بزدلی اور قلت یقین پر دلالت کرتا ہے۔ ورنہ اگر وہ عقلمند ہوتے تو انہیں معلوم ہوتا کہ وہ بھی سب کے سب آدم کی اولاد ہیں اور طاقتور وہ ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ اپنی اعانت سے نواز دے، کیونکہ اللہ کی اعانت و توفیق کے بغیر کسی کے پاس کوئی قوت و اختیار نہیں، نیز انہیں یہ بھی معلوم ہوتا کہ ان کو ضرور فتح نصرت سے نوازا جائے گا، کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کے ساتھ فتح ون صرت کا خاص وعدہ کر رکھا ہے۔ (قال رجلن من الذین یخافون) ” دو آدمیوں نے کہا، جو ڈرنے والوں میں سے تھے“ یعنی جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے تھے انہوں نے اپنی قوم کا دل بڑھاتے ہوئے ان کو دشمن کے خلاف جنگ کرنے اور ان کے علاقوں میں اترنے پر آمادہ کرنے کے لئے کہا (انعم اللہ علیھما) ” جن پر اللہ نے انعام کیا تھا“ جنہیں اللہ تعالیٰ نے توفیق اور اس قسم کے مواقع پر کلمہ حق کہنے کی جرأت سے نوازا تھا اور انہیں صبر و یقین کی نعمت عطا کی تھی۔ (ادخلوا علیھم الباب فاذا دخلتموہ فانکم غلبون) ” تم دروازے میں داخل ہوجاؤ، جب تم اس میں داخل ہوجاؤ گے تو تم غالب ہو گے“ یعنی تمہارے اور تمہاری فتح کے درمیان کوئی چیز حائل نہیں، سوائے اس کے کہ تم ان پر حملے کا پختہ عزم کرلو اور شہر کے دروازے میں ھس جاؤ، پس جب تم اس میں گھس جاؤ گے تو وہ ہزیمت اٹھا کر بھاگ جائیں گے، پھر ان کو اس تیاری کا حکم دیا جو سب سے بڑی تیاری ہے، چنانچہ فرمایا : (وعلی اللہ فتوکلوآ ان کنتم مؤمنین) ” اور اللہ ہی پر تم بھروسہ کرو، اگر تم مومن ہو“ کیونکہ اللہ تبارک و تعالیٰ پر توکل میں، خصوصاً ایسے مواقع پر، معاملے میں آسانی اور دشمنوں پر فتح حاصل ہوتی ہے اور یہ آیت کریمہ توکل کے وجوب پر دلالت کرتی ہے، نیز یہ کہ توکل بندہ مومن کے ایمان کی مقدار کے مطابق ہوتا ہے۔ مگر ان کو کسی کلام نے فائدہ دیا نہ کسی ملامت نے اور انہوں نے ذلیل ترین لوگوں کی سی بات کہی : (آیت) ” اے موسیٰ! جب تک وہ اس میں ہیں، ہم کبھی اس میں داخل نہ ہوں گے، پس تو جا اور تیرا رب اور تم دونوں لڑو ہم یہاں بیٹھے ہیں“ اس مشکل صورتحال میں اپنے نبی کے سامنے ان کا یہ قول کتنا قبیح ہے جبکہ ضرورت اور حاجت تو اس بات کی متقاضی تھی کہ وہ عزت نفس کا خیال کرتے ہوئے اپنے نبی کی مدد کرتے۔ ان کے اس قول سے اور اس جیسے دیگر اقوال سے محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی امت اور دوسری امتوں کے درمیان تفاوت واضح ہوجاتا ہے۔ بدر کے موقع پر جب رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مشورہ کیا جبکہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابھی ان کو کوئی حتمی حکم نہیں دیا تھا، تو صحابہ نے عرض کی ” یا رسول اللہ ! اگر آپ ہمیں لیکر سمندر میں بھی کود جائیں تو ہم آپ کے ساتھ ہیں اگر آپ ہمیں لے کر زمین کے آخری سرے تک پہنچ جائیں تو بھی کوئی پیچھے نہیں رہے گا اور ہم وہ بات بھی نہیں کہیں گے جو جناب موسیٰ کی قوم نے ان سے کہی تھی : (فاذھب انت و ربک فقاتلا انا ھھنا قعدون) ” جایئے آپ اور آپ کا رب دونوں لڑائی کریں ہم تو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ آپ اور آپ کے آگے، آپ کے پیچھے، آپ کے دائیں اور آپ کے بائیں طرف سے آپ کے دفاع میں جنگ لڑیں گے۔“ (١) جب موسیٰ علیہ الصلوۃ و السلام نے ان کی سرکشی دیکھی تو اللہ تعالیٰ سے عرض کیا : (قال رب انی لا املک الا نفسی واخی) ” اے میرے رب ! میرے اختیار میں تو میری جان اور میرا بھائی ہے“ یعنی لڑائی کے بارے میں ہمیں ان پر کوئی اختیار نہیں اور میں ان پر کوئی جبر نہیں کرسکتا (فافرق بیننا و بین القوم الفسقین) ” پس جدائی کر دے ہم میں اور اس نافرمان قوم میں“ یعنی ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ فرما دے بایں طور اپنی حکمت کے تقاضے کے مطابق ان پر عذاب نازل فرما۔ یہ بات دلالت کرتی ہے کہ ان کا قول و فعل کبیرہ گناہوں میں سے تھا جو فسق کے موجب ہوتے ہیں (قال) اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ کی دعا قبول کرتے ہوئے فرمایا : (فانھا محرمہ علیھم اربعین سنۃ یتبھون فی الارض) ” وہ ملک ان پر چالیس برس تک کے لئے حرام کردیا گیا ہے، اور وہ زمین میں سرگرداں پھرتے رہیں گے۔“ یعنی ان کی سزا یہ ہے کہ اس بستی میں، جو اللہ تعالیٰ نے ان کے لئے لکھ دی ہے، داخل ہونا چالیس برس تک ان پر حرام کردیا گیا، نیز وہ اس مدت کے دوران زمین میں مارے مارے اور سرگرداں پھرتے رہیں گے۔ وہ کسی طرف جانے کی راہ پائیں گے نہ کسی جگہ اطمینان سے ٹھہر سکیں گے۔ یہ دنیوی سزا تھی۔ شاید اس سزا کو اللہ تعالیٰ نے ان گناہوں کا کفارہ بنا دیا اور ان سے وہ سزا دور کردی جو اس سے بڑی سزا تھی۔ اس آیت کریمہ سے استدلال کیا جاتا ہے کہ گناہ کی سزا کبھی کبھی یہ بھی ہوتی ہے کہ موجودہ نعمت زائل ہوجاتی ہے یا کسی عذاب کو ٹال دیا جاتا ہے جس کے وجود کا سبب مہیا ہو، یا اس کو کسی دوسرے وقت کے لئے مؤخر کردیا جاتا ہے۔ چالیس سال کی مدت مقرر کرنے میں شاید حکمت یہ ہے کہ اس مدت کے دوران میں یہ بات کہنے والے اکثر لوگ مر چکے ہوں گے جو صبر و ثبات سے محروم تھے، بلکہ ان کے دل دشمن کی غلامی سے مالوف ہوگئے تھے بلکہ وہ ان بلند ارادوں ہی سے محروم تھے جو انہیں بلندیوں پر فائز کرتے تاکہ اس دوران نئی نسل کی عقل اور شعور تربیت پا ١۔ سیرت ابن ھشام،(228/2) لے پھر وہ دشمنوں پر غلبہ حاصل کرنے، غلامی سے آزاد ہونے اور اس ذلت سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کریں جو سعادت سے مانع ہوتی ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ کو معلوم تھا کہ اس کا بندہ موسیٰ مخلوق پر بے حد رحیم ہے خاص طور پر اپنی قوم پر بسا اوقات ان کے لئے ان کا دل بہت نرم پڑجاتا تھا، ان کی یہ شفقت اس سزا پر ان کو مغموم کردیتی یا اس مصیبت کے زائل ہونے کی دعا کرنے پر آمادہ کردیتی۔ اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے حتمی طور پر فرمایا : (فلا تاس علی القوم الفسقین) ” پس تو ان نافرمان لوگوں کے حال پر افسوس نہ کر۔“ یعنی ان پر افسوس کر نہ ان کے بارے غمزدہ ہو۔ یقیناً انہوں نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کا ارتکاب کیا ہے اور ان کی نافرمانی اسی سزا کا تقاضا کرتی تھی جو انہیں ملی ہے۔ یہ سزا ہماری طرف سے ظلم نہیں ہے۔