سورة المآئدہ - آیت 13

فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَاقَهُمْ لَعَنَّاهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوبَهُمْ قَاسِيَةً ۖ يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ عَن مَّوَاضِعِهِ ۙ وَنَسُوا حَظًّا مِّمَّا ذُكِّرُوا بِهِ ۚ وَلَا تَزَالُ تَطَّلِعُ عَلَىٰ خَائِنَةٍ مِّنْهُمْ إِلَّا قَلِيلًا مِّنْهُمْ ۖ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاصْفَحْ ۚ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

پھر یہ ان کی عہد شکنی ہی تو تھی جس کی وجہ سے ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دور کیا، اور ان کے دلوں کو سخت بنا دیا۔ وہ باتوں کو اپنے موقع محل سے ہٹا دیتے ہیں۔ اور جس بات کی ان کو نصیحت کی گئی تھی اس کا ایک بڑا حصہ بھلا چکے ہیں اور ان میں سے کچھ لوگوں کو چھوڑ کر تمہیں آئے دن ان کی کسی نہ کسی خیانت کا پتہ چلتا رہتا ہے۔ لہذا (فی الحال) انہیں معاف کردو اور درگزر سے کام لو (١٥) بیشک اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 13 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ اس نے بنی اسرائیل سے بہت موکد اور بھاری عہد لیا پھر اس میثاق اور عہد کا صوف بیان فرمایا اور بتایا کہ اگر وہ اس عہد کو پورا کریں گے تو ان کو کیا اجر ملے گا اور اگر وہ اس عہد کو پورا نہیں کریں گے تو ان کو کیا سزا ملے گی، پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے ذکر فرمایا کہ انہوں نے اس عہد کو پورا نہیں کیا اور یہ بھی بتایا کہ ان کو اس کی پاداش میں کیا سزا ملی۔ (ولقد اخذ اللہ میثاق بنی اسرائیل) ” اور اللہ نے بنی اسرائیل سے اقرار لیا۔“ یعنی اللہ نے بنی اسرائیل سے مضبوط اور موکد عہد لیا (وبعثنا منھم اثنی عشر نقیباً) ہم نے ان کے بارہ سردار مقرر کردیئے جو ان کے معاملات کی دیکھ بھال کرتے تھے اور جن باتوں کا انہیں حکم دیا جاتا تھا اس کی تعمیل کرنے پر انہیں آمادہ کرتے تھے۔ (وقال اللہ) اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان نقیبوں (سرداروں) سے فرمایا جنہوں نے ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھایا تھا (انی معکم) ” میں تمہارے ساتھ ہوں“ یعنی میری اعانت و نصرت تمہارے ساتھ ہے، کیونکہ مدد ہمیشہ ذمہ داری کے بوجھ کے مطابق ہوتی ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان امور کا ذکر فرمایا جن پر عہد لیا تھا۔ (لئن اقمتم الصلوۃ) ” اگر تم نماز پڑھتے رہو گے۔“ یعنی اگر تم نماز کو اس کے ظاہری اور باطنی لوازم کے ساتھ قائم کرو اور پھر اس پر دوام اختیار کرو گے (واتیتم الزکوۃ) ” اور زکوۃ دیتے رہو گے۔“ یعنی مستحق لوگوں کو زکوۃ دو گے (وامنتم برسلی) ” اور میرے پیغمبروں پر ایمان لاؤ گے۔“ تمام انبیاء و رسل پر ایمان لاؤ گے، جن میں سب سے افضل اور سب سے اکمل جناب محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں (وعزر تموھم) ” اور ان کی مدد کرو گے۔“ یعنی اگر تم انبیاء کی تعظیم اور ان کی اطاعت اور ان کا احترام کرو گے جو تم پر واجب ہے (واقرضتم اللہ قرضا حسنا) ” اور تم اللہ کو قرض حسن دو گے“ یعنی صدقہ دو گے اور بھلائی کرو گے جس کا مصدر صدق و اخلاق و اخلاص اور کسب حلال ہو۔ جب تم مذکورہ بالا تمام امور قائم کرلو گے (لاکفرن عنکم سیاتکم ولادخلنکم جنت تجری من تحتھا الانھر) ” تو میں تم سے تمہاری برائیاں دور کر دوں گا اور تمہیں ان باغات میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی“ اس میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے جنت میں اپنی نعمتوں اور محبوب امور کے حصول اور گناہوں کی تکفیر اور اس پر مرتب ہونے والی سزا کو دور کر کے ناپسندیدہ امور کے دور ہٹنے کو یکجا بیان فرمایا۔ (فمن کفر بعد ذلک) ” پھر جس نے اس کے بعد کفر کیا۔“ یعنی جو کوئی اس عہد و میثاق کے بعد جسے ایمان اور ثواب کی ترغیب کے ذریعے سے موکد کیا گیا ہے، کفر کے رویہ اختیار کرتا ہے (فقد ضل سوآء السبیل) ” تو وہ سیدھے راستے سے بھٹک گیا۔“ یعنی وہ جان بوجھ کر سیدھے راستے سے بھٹکتا ہے تو وہ اسی سزا کا مستحق ہوگا، جس کے مستحق گمراہ لوگ ہوں گے، جیسے ثواب سے محرومی اور عذاب سے دوچار ہونا۔ گویا یوں کہا گیا ہے کہ ” کاش ہمیں بھی معلوم ہوتا کہ انہوں نے کیا کیا؟ کیا انہوں نے اس عہد کو پورا کیا جو انہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیا تھا یا اس عہد کو توڑ دیا؟“ پس اللہ نے واضح کردیا کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ کئے گئے اس عہد کو توڑ دیا۔ چنانچہ فرمایا : (فبما نقضھم میثاقھم) ” تو ان لوگوں کے عہد توڑ دینے کے سبب۔“ یعنی ان کے نقض عہد کے سبب سے ہم نے ان کو متعدد سزائیں دیں۔ (١) (لعنھم) ” ہم نے ان پر لعنت کی۔“ یعنی ہم نے ان کو دھتکار کر اپنی رحمت سے دور کردیا، کیونکہ انہوں نے اپنے آپ پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دروازے بند کر لئے اور انہوں نے اس عہد کو پورا نہ کیا جو اللہ تعالیٰ نے ان سے لیا تھا جو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے دور ہونے کا سب سے بڑا سبب ہے۔ (٢) (وجعلنا قولبھم قسیۃ) ” اور ان کے دلوں کو سخت کردیا۔“ یعنی ہم نے ان کو پتھر دل بنا دیا۔ پس وعظ و نصیحت ان کے کسی کام آسکتے ہیں نہ آیات اور نہ ہی برے انجام سے ڈرانے والے انہیں کوئ فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔ کوئی شوق انہیں ترغیب دے سکتا ہے نہ کوئی خوف ان کو یہ عہد پورا کرنے کے لئے بے قرار کرسکتے ہیں۔ کوئی شوق انہیں ترغیب دے سکتا ہے نہ کوئی خوف ان کو یہ عہد پورا کرنے کے لئے بے قرار کرسکتا ہے۔ بندے کے لئے یہ سب سے بڑی سزا ہے کہ اس کے دل کی یہ کیفیت ہوجائے کہ ہدایت اور بھلائی بھی اس پر برا اثر کریں۔ (٣) (یحرفون الکلم عن مواضعہ) ” یہ لوگ کلمات (کتاب) کو اپنے مقامتا سے بدل دیتے ہیں۔“ یعنی وہ کلام اللہ میں تغیر و تبدل کے بھی مرتکب ہوئے، چنانچہ انہوں نے کلام الٰہی کے اس معنی کو، جو اللہ تعالیٰ کی مراد تھا، بدل کر وہ معنی بنا دیا جو اللہ اور اس کے رسول کی مراد نہ تھا۔ (٤) (ونسوا حظاً مما ذکروا بہ) ” اور جن باتوں کی ان کو نصیحت کی گئی تھی اس کا ایک بڑا حصہ وہ بھلا بیٹھے۔“ انہیں تو رات اور ان تعلیمات کے ذریعے سے نصیحت کی گئی جو موسیٰ پر نازل کی گئی تھیں، مگر انہوں نے ان کو فراموش کردیا۔ یہ اس بات کو بھی شامل ہے کہ انہوں نے جناب موسیٰ کے علم کو فراموش کردیا بنا بریں علم ان سے ضائع ہوگیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ سزا دی کہ بہت سا علم ناپید ہوگیا۔ یہ آیت کریمہ نسیان عمل کو بھی شامل ہے جو ترک عمل کا نتیجہ ہے، پس جس چیز کا انہیں حکم دیا گیا تھا اس پر عمل کرنے کی ان کو توفیق نہ ہوئی۔ اسی آیت سے استدلال کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ انہوں نے بعض ان امور کو جو انکار کیا جن کا ذکر ان کی کتابوں میں ہے، یا ان کے زمانے میں واقع ہوئے، یہ بھی ان باتوں میں سے ہے جن کو انہوں نے فراموش کیا۔ (٥) دائمی خیانت، جس کے بارے میں فرمایا : (ولا تزال تطلع علی خآئنۃ منھم) ” اور آپ ہمیشہ مطلع ہوتے رہتے ہیں ان کی خیانت پر‘ یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور اس کے بندوں کے ساتھ خیانت اور ان کی سب سے بڑی خیانت یہ ہے کہ انہوں نے ان لوگوں سے حق کو چھپایا جو ان کو نصیحت کرتے تھے اور ان کے بارے میں حسن ظن رکھتے تھے اور ان کو ان کے کفر پر باقی رکھنا۔ پس یہ بہت بڑی خیانت ہے اور جو کوئی ان صفات سے متصف ہوتا ہے اس میں یہ مذموم خصائل پائے جاتے ہیں۔ پس جو کوئی اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل اور ان کا التزام نہیں کرتا تو اس لعنت، قساوت قلبی اور کلام الٰہی کی تحریف میں وہ بھی حصہ دار ہوتا ہے۔ اس کو بھی حق اور صواب کی توفیق نہیں ملتی، وہ بھی ان امور کو فراموش کرنے کا مرتکب ہوتا ہے جن کی اسے یاد دہانی کروائی گئی تھی اور ایسے شخص کا خیانت میں مبتلا ہونا بھی یقینی ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے عافیت کے طلبگار ہیں۔ جس امر کی انہیں یاد دہانی کروائی گئی تھی اللہ تعالیٰ نے اس کو (حظ) ” حصہ، نصیبہ“ کے نام سے اس لئے موسوم کیا ہے کیونکہ یہ سب سے بڑا حظ ہے اس کے علاوہ دیگر تمام حظوظ دنیاوی حظوظ ہیں۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا : (آیت) ” قارون بڑی سج دھج کے ساتھ اپنی قوم کے سامنے نکلا وہ لوگ جو دنیا کی زندگی کے طالب تھے، کہنے لگے کاش ہمیں بھی وہی کچھ دیا گیا ہوتا جو قارون کو دیا گیا ہے۔ وہ تو بہت بڑے نصیبے والا ہے۔“ اور خط نافع کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وما یلقھآ الا الذین صبروا وما یلقھآ الا ذوحظ عظیم) (حم السجدہ :35/31) ” یہ بات صرف ان لوگوں کو صنیب ہوتی ہے جو صبر کرتے ہیں اور اس سے وہی لوگ بہرہ ور ہوتے ہیں جو بہت بڑے نصیبے والے ہیں۔ “ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (الا قلیلاً منھم) ” تھوڑے آدمیوں کے سوا۔“ یعنی وہ لوگ بہت کم تھے جنہوں نیاللہ تعالیٰ سے جو عہد کیا تھا اسے پورا کردیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو توفیق سے نوازا اور سیدھے راستے کی طرف ان کی راہنمائی کی (فاعف عنھم واصفخ) ” پس آپ ان کی خطائیں معاف کردیں اور ان سے در گزر فرمائیں۔“ ان کی طرف سے آپ کو جو بھی کوئی ایسی تکلیف پہنچتی ہے جو معاف کردینے کے قابل ہوا اسے معاف کردیا کریں اور ان سے درگزر کیجیے کیونکہ یہ بھلائی ہے (ان اللہ یحب المحسنین) ” بیشک اللہ احسان کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔“ اور احسان یہ ہے کہ تو اس طرح اللہ تعالیٰ کی عبادت کرے گویا کہ تو اسے دیکھ رہا ہے اور اگر تو اپنے آپ میں یہ کیفیت پیدا نہیں کرسکتا تو اللہ تعالیٰ تو تجھے دیکھ رہا ہے اور مخلوق کے حق میں احسان یہ ہے کہ تو انہیں دینی اور دنیاوی فائدے سے نوازے۔