سورة المآئدہ - آیت 10

وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور جن لوگوں نے کفر اپنایا اور ہماری نشانیوں کو جھٹلایا وہ دوزخ کے باسی ہیں۔

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 10 (وعد اللہ) ” اللہ نے وعدہ کیا ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ جو وعدہ خلافی نہیں کرتا ان لوگوں کے ساتھ وعدہ فرماتا ہے جو اس پر، اس کے رسولوں اور یوم آخرت پر ایمان لاتے ہیں (وعملوا الصلحت) ” اور نہوں نے نیک عمل کئے“ جو واجبات و مستحبات پر عمل پیرا ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ان کو بخش دینے، ان کے گناہوں کی سزا کو معاف کردینے اور ان کو اجر عظیم کے عطا کرنے کا وعدہ کرتا ہے جس کی بڑائی کو اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (فلا تعلم نفس ما اخفی لھم من قرۃ اعین جزآء بما کانوا یعملون) (السجدہ :18/32) ” کوئی متنفس نہیں جانتا کہ ان کے لئے ان کے اعمال کے صلہ کے طور پر آنکھوں کی کیا ٹھنڈک چھپا رکھی گئی۔“ (والذین کفروا وکذبوا بایتنآ ” اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا۔“ یعنی انہوں نے ان آیات کی تکذیب کی جو حق مبین پر دلالت کرتی ہیں حالانکہ ان آیات نے حقائق کو بیان کردیا تھا (اولئک اصحب الجحیم) ” وہ جہنمی ہیں۔“ وہ جہنم کے ساتھ اس طرح لازم رہیں گے جس طرح دوست دوست کے ساتھ لازم رہتا ہے۔