سورة النسآء - آیت 154

وَرَفَعْنَا فَوْقَهُمُ الطُّورَ بِمِيثَاقِهِمْ وَقُلْنَا لَهُمُ ادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَقُلْنَا لَهُمْ لَا تَعْدُوا فِي السَّبْتِ وَأَخَذْنَا مِنْهُم مِّيثَاقًا غَلِيظًا

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور پھر (دیکھو احکام حق پر) عہد لینے کے لیے ہم نے ان کے سروں پر (کوہ) طور بلند کردیا تاھ۔ (اور انہوں نے اتباع حق کا قول و قرار کیا تھا) اس کے بعد ہم نے انہیں حکم دیا کہ شہر کے دروازے میں (خدا کے آگے) جھکے ہوئے داخل ہو (اور فتح و کامیابی کے بعد ظلم و شرارت نہ کرو) اور ہم نے حکم دیا کہ سب کے دن (کا احترام کرو) اور اس دن (حکم شریعت سے) تجاوز نہ کرجاؤ۔ ہم نے ان سے ان تمام باتوں پر پکا عہد و میثاق لے لیا تھا

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 154 اہل کتاب نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ سوال مطالبہ اور عناد کی بنا پر کیا تھا اور اسی پر انہوں نے اپنی تصدیق و تکذیب کو موقوف قرار دیا تھا اور ان کا سوال یہ تھا کہ ان پر تمام قرآن ایک ہی بار نازل ہوجائے جیسے تورات اور انجیل ایک ہی بار نازل ہوئی تھیں۔ یہ ان کی طرف سے اتنہائی ظالمانہ مطالبہ تھا کیونکہ رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تو ایک بشر اور بندے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تدبیر کے تحت ہیں، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اتھ میں تو کوئی اختیار نہیں۔ تمام اختیار اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ وہی ہے جو اپنے بندوں پر جو چاہتا ہے نازل کرتا ہے۔ جس سرح اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے اس وقت فرمایا جب مشرکین نے اسی قسم کے مطالبے کئے تھے۔ (قل سبحان ربی ھل کنت الا بشراً رسولاً) (بنی اسرائیل :93/18) ” کہہ دیجیے پاک ہے میرا رب میں تو ایک بشر ہوں اللہ کی طرف سے بھیجا ہوا رسول۔ “ اسی طرح مجرد کتاب کے ایک مرتبہ یا متفرق طور پر نازل کرنے کو، ان کی طرف سے حق و باطل کے درمیان فاروق (فرق کرنے والا) بنانا بھی، مجرد دعویٰ ہے، جس کی کوئی دلیل اور کوئی مناسبت نہیں اور نہ کوئی شبہ ہے۔ انبیاء میں سے کسی بھی نبی کی نبوت میں کہاں آیا ہے کہ وہ رسول جو تمہارے پاس کتاب لے کر آئے اور اگر یہ کتاب ٹکڑوں میں نازل کی گئی ہو تو تم اس پر ایمان لانا نہ اس کی تصدیق کرنا؟ بلکہ قرآن مجید کا حسب احوال تھوڑا تھوڑا کر کے نازل ہونا اس کی عظمت اور اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس پیغمبر پر، جس پر وہ نازل ہوا، اللہ کی خاص عنایت اور توجہ ہے۔ جیسا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے : (آیت) ” اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر قرآن ایک ایک ہی باریکیوں نازل نہیں کیا گیا، اسی طرح آہستہ آہستہ اس لئے نازل کیا گیا ہے تاکہ تمہارے دل کو قائم رکھیں اور ہم نے اسے ترتیل کے ساتھ پڑھا ہے۔ لوگ تمہارے پاس جو اعترضا بھی لے کر آئیں ہم تمہارے پاس حق اور اس کی بہترین تفسیر لے کر آتے ہیں۔ “ جب اللہ نے ان کے اس فاسد اعتراض کا ذکر کیا تو یہ بھی بتایا کہ ان کے معاملے میں کوئی انوکھی بات نہیں ہے، بلکہ اس سے پہلے ان کی اس سے بھی بری باتیں گزر چکی ہیں جو انہوں نے اس نبی کے ساتھ اتخیار کیں، جس کی بابت ان کا گمان ہے کہ وہ اس پر ایمان لائے تھے۔ مثلاً ظاہری آنکھوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا مطالبہ کرنا۔ بلکہ اس سے پہلے ان کی اس بھی بری باتیں گزر چکی ہیں جو انہوں نے اس نبی کے ساتھ اختیار کیں، جس کی بات ان کا گمان ہے کہ وہ اس پر ایمان لائے تھے۔ مثلاً ظاہری آنکھوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا مطالبہ کرنا۔ عبادت کے لئے بچھڑے کو معبود بنانا وغیرہ، حالانکہ ہو اپنی آنکھوں سے وہ کچھ دیکھ چکے تھے جو کسی اور نے نہیں دیکھا۔ اپنی کتاب تورات کے احکام کو قبول کرنے سے انکار کرنا، یہاں تک کہ کوہ طور کو اٹھا کر ان کے سروں پر معلق کردیا گیا اور ان کو دھمکایا گیا کہ اگر وہ ایمان نہیں لائیں گے تو پہاڑ کو ان پر گرایا دیا جائے گا تو اغماض برتتے ہوئے اور اس ایمان کے ساتھ اسے قبول کرلیا جو ایمان ضروری کے مشابہ تھا۔ بستی کے دروازوں سے اس طریقے سے داخل ہونے سے انکار کرنا جس طریقے سے انہیں داخل ہونے کا حکم دیا گیا تھا، یعنی سجدہ کرتے ہوئے اور استغفار کرتے ہوئے۔ (اس موقع پر) انہوں نے قول و فعل دونوں طرح سے مخالفت کی۔ ہفتے کے روز ان کا حد سے تجاوز کرنا۔ پس اللہ تعالیٰ نے اس گناہ کی پاداش میں ان کو سخت سزا دی۔ ان سے پکا عہد لیا۔ مگر انہوں نے اس میثاق کو اپنی پیٹھ پھینک دیا، اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر کیا اور اس کے رسولوں کو ناحق قتل کیا۔ ان کا یہ کہنا کہ ہم نے مسیح (علیہ الصلوۃ و السلام) کو صلیب پر چڑھا کر قتل کردیا۔ حالانکہ انہوں نے انہیں قتل کیا نہ سولی پر چڑھایا، بلکہ ان کو کسی اور کے ساتھ اشتباہ میں ڈال دیا گیا تھا، جسے انہوں نے قتل کیا اور صلیب پر چڑھایا۔ ان کا یہ دعویٰ کرنا کہ ان کے دلوں پر غلاف ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو کچھ ان سے کہتے ہیں وہ اس کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ ان کا لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکنا اور جس ضلالت اور گمراہی میں خود مبتلا ہیں لوگوں کو اس کی طرف دعوت دینا۔ اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان کو حق سے روک دیا۔ ان کا سودا اور حرام کھانا حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو سود خوری سے نہایت سختی سے روکا تھا۔ پس جن لوگوں کے یہ کرتوت ہوں تو ان کے بارے میں یہ کوئی ان ہونی بات نہیں کہ انہوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے یہ مطالبہ کیا ہو کہ وہ آسمان سے ان پر کتاب اتار دیں۔ باطل پرست مخالف فریق کے ساتھ مباحثہ و مجادلہ میں دلیل دینے کا یہ بہترین طریقہ ہے کہ جب فریق مخالف کی طرف سے کوئی باطل اعتراض وارد ہو جس نے حق ٹھہرانے میں اس کو یا کسی اور کو شبہ میں مبتلا کر رکھا ہے۔۔۔ تو وہ اس مخلاف کے ان خبیث احوال اور قبیح افعال کو بیان کرے جو اس سے صادر ہوئے اور وہ بدترین اعمال ہیں۔ تاکہ ہر شخص کو یہ معلوم ہوجائے کہ یہ اعتراضات بھی اس خسیس نوع کے ہیں اور اس کے کچھ مقدمات بد ہیں اور یہ اعتراض بھی اس قبل سے تعلق رکھتا ہے۔ اسی طرح ہر وہ اعتراض جو وہ نبوت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر عائد کرتے ہیں اس کا مقابلہ بھی اس قسم کے یا اس سے بھی قوی اعتراض سے اس نبوت کی بابت کر کے کیا جاسکتا ہے جس پر وہ ایمان لانے کا دعویٰ کرتے ہیں، اس طرح ان کے شرکا مقابلہ کیا جاسکتا ہے اور ان کے باطل کا قلع قمع ہوسکتا ہے اور ہر وہ دلیل جس کو وہ اس نبی کی نبوت کے ثبوت اور تحقق کے لئے پیش کرتے ہیں جس پر یہ ایمان لائے ہوئے ہیں، تو یہی دلیل اور اس جیسے دیگر دلائل اور ان سے بھی زیادہ قوی دلائل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کو ثابت اور متحقق کرتے ہیں۔ چونکہ ان کے اعتراض کے مقابلہ میں ان کی برائیوں اور قباحتوں کو صرف شمار کرنا مقصود ہے اس لئے اس مقام پر تفصیل بیان نہیں کی بلکہ ان کی طرف اشارہ کر کے ان کے مقامات کا حوالہ دے دیا ہے اور اس مقام کے علاوہ دیگر مناسب مقام پر ان کو مبسوط طور پر بیان کیا ہے۔ (وان من اھل الکتب الالیومنن بہ قبل موتہ)’ اور کوئی اہل کتاب نہیں ہوگا مگر ان کی موت سے پہلے ان پر ایمان لے آئے گا۔“ (قبل موتہ) میں اس بات کا احتمال ہے کہ ضمیر کا مرجع اہل کتاب ہو۔ تب اس احتمال کی صورت میں اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اہل کتاب کا ہر شخص اپنی موت کے وقت اس امر کی حقیقت کا معائنہ کرلے لگا۔ پس وہ اس وقت جناب عیسیٰ پر ایمان لے آئے گا مگر یہ وہ ایمان ہے جو کوئی فائدہ نہیں دیتا کیونکہ یہ اضطراری ایمان ہے۔ پس یہ مضمون ان کے لئے تہدید و وعید کی حیثیت رکھتا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنے اس حال پر قائم نہ رہیں جس پر انہیں موت سے قبل نادم ہونا پڑتا ہے۔ جب وہ یہاں نادم ہوتے ہیں تو حشر کے روز جب وہ اللہ کے حضور کھڑے ہوں گے ان کا کیا حال ہوگا؟ اور آیت میں اس بات کا احتمال بھی ہے کہ (قبل موتہ) میں ضمیر کا مرجع جناب عیسیٰ ہوں۔ تب معنی یہ ہوں گے کہ اہل کتاب کا ہر شخص جناب مسیح (علیہ السلام) کی موت سے قبل ان پر ایمان لے آئے گا۔ جناب مسیح قیامت کے قریب ظاہر ہوں گے۔ حضرت عیسیٰ کی دوبارہ آمد ظہور قیامت کی بڑی بڑی نشانیوں میں شمار ہوتی ہے۔ بکثرت احادیث میں وارد ہے کہ اس امت کے آخری زمانے میں حضرت عیسیٰ کا نزول ہوگا، وہ دجال کو قتل کریں گے، جزیہ ساقط کردیں گے اور اہل ایمان کے ساتھ اہل کتاب بھی حضرت عیسیٰ پر ایمان لے آئیں گے۔ قیامت کے روز حضرت عیسیٰ ان کے اعمال پر گواہی دیں گے کہ آیا یہ اعمال شریعت کے مطابق تھے یا نہیں؟ اس روز وہ ان کے ہر اس عمل کے بطلان کی گواہی دیں گے جوش ریعت قرآن کے مخالف ہوگا۔ چونکہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل کتاب کو اس کی طرف دعوت دی ہے اس لئے ہمیں سا بات کا علم ہے اور اس وجہ سے بھی کہ ہمیں حضرت عیسیٰ کے کامل طور پر عادل اور صاحب صدق ہونے کا علم ہے اور ہمیں یہ بھی علم ہے کہ حضرت عیسیٰ صرف حق کی گواہی دیں گے اور اس بات کی گواہی دیں گے کہ جناب محمد مصطفی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جو لے کر آئے، وہ حق ہے، اس کے علاوہ جو کچھ ہے، باطل اور گمراہی ہے۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آگاہ فرمایا ہے کہ اس نے اہل کتاب پر بہت سی پاک چیزیں حرام ٹھہرا دی تھیں جو ان پر حلال تھیں۔ یہ تحریم ان کے ظلم و تعدی، اللہ تعالیٰ کے راستے سے لوگوں کو روکن، لوگوں کو ہدایت کی راہ سے باز رکھنے اور منع کرنے کے باوجود ان کے سود کھانے کی وجہ سے سزا کے طور پر نافذ کی گئی تھی۔ و محتاج لوگوں کو اپنی خرید و فروخت میں سود کے ذریعے سے انصاف کی راہ سے ہٹاتے تھے۔ پس اللہ تعالیٰ نے خود ان کے فعل کی جنس ہی سے ان کو سزا دی اور بہت سی طیبات کو ان پر حرام کردیا، جن کو حلال کرنے کے وہ خواہش مند تھے، کیونکہ فی نفسہ وہ حلال تھیں۔ رہی اس امت پر بعض چیزوں کیت حریم، تو یہ تحریم ان کو ان خبائث سے بچانے کی خاطر ہے جو ان کے دین و دنیا میں نقصان دہ ہیں۔