سورة النسآء - آیت 80

مَّن يُطِعِ الرَّسُولَ فَقَدْ أَطَاعَ اللَّهَ ۖ وَمَن تَوَلَّىٰ فَمَا أَرْسَلْنَاكَ عَلَيْهِمْ حَفِيظًا

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

جو رسول کی اطاعت کرے، اس نے اللہ کی اطاعت کی، اور جو (اطاعت سے) منہ پھیر لے تو (اے پیغمبر) ہم نے تمہیں ان پر نگراں بنا کر نہیں بھیجا (کہ تمہیں ان کے عمل کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے)

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 80 یعنی ہر وہ شخص جس نے اوامرونواہی میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کی (فقد اطاع) ” اس نے اللہ کی اطاعت کی۔“ کیونکہ اگر آپ کسی چیز کا حکم دیتے یا کسی چیز سے روکتے ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی شریعت ،۔ چونکہ اگر آپ کسی چیز کا حکم دیتے ہے یا کسی چیز سے روکتے ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کی۔“ کیونکہ کسی چیز کا حکم دیتے ہیں یا کسی چیز سے روکتے ہیں تو وہ اللہ تعالیٰ ہی کا حکم ہوتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی شریعت، اس کی وحی اور تنزیل ہے۔ یہ آیت کریمہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی عصمت کی دلیل ہے۔ (کیونکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی مطلق اطاعت کا حکم دیا ہے، لہٰذا اگر آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہنچانے کے بارے میں معصوم نہ ہوتے تو اللہ تعالیٰ آپ کی مطلق اطاعت کا حکم نہ دیتا اور اطاعت کرنے والوں کی مدح نہ فرماتا۔ اور اس کا مشترکہ حقوق میں ہوتا ہے۔ یہ حقوق تین اقسام میں منقسم ہوتے ہیں۔ (١) اللہ تعالیٰ کا حق۔ یہ حق مخلوق میں سے کسی کے لئے نہیں ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کی طرف رغبت ہے اور ان کے توابع ہیں۔ (٢) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا حق، جو صرف آپ کے ساتھ مختص ہے وہ ہے آپ کی توقیر، آپ کا احترام اور آپ کی مدد کرنا۔ (٣) حقوق کی تیسری قسم اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان مشترکہ ہے اور وہ ہے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لانا، ان سے محبت کرنا اور ان کی اطاعت کرنا۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ان حقوق کو اس آیت کریمہ میں جمع کردیا ہے : (لتومنوا باللہ و رسولہ و تعزروہ وتوقروہ وتسبحوۃ بکرۃ واصیلاً) (الفتح :9/38) ” تاکہ تم لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، اس کی مدد اور اس کی توقیر کرو اور صبح و شام اس کی تسبیح بیان کرتے رہو۔ “ پس جس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی، اس کے لئے وہی ثواب ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر مترتب ہوتا ہے (ومن تولیٰ) ” اور جس نے (اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے) منہ موڑا“ وہ صرف اپناہی نقصان کرتا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کا کچھ بھی نقصان نہیں کرسکتا۔ (فما ارسلنک علیھم حفیظاً) ” ہم نے آپ کو ان کا نگہبان بنا کر نہیں بھیجا۔“ یعنی ہم نے آپ کو اس لئے مبعوث نہیں کیا کہ آپ ان کے اعمال و احوال کی نگہبانی کریں، بلکہ ہم نے تو آپ کو مبلغ، کھول کھل کر بیان کرنے والا اور ناصح بنا کر بھیجا ہے اور آپ نے اپنا فرض ادا کردیا ہے آپ کے لئے آپ کا اجر واجب ہوگیا۔ خواہ وہ راہ راست اختیار کریں یا نہ کریں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (فذکر انما انت مذکر، لست علیھم بمصطیر) (الغاشیہ :22-21/88) ” تم ان کو نصیحت کرتے رہو اور تم صرف نصیحت کرنے والے ہی ہو۔ تم ان پر نگہبان نہیں۔ “ نیز یہ بھی لازم ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت ظاہر و باطن اور جلوت و خلوت میں ہو۔ رہا وہ شخص جو لوگوں کے سامنے اطاعت اور التزام کا اظہار کرتا ہے اور جب تنہا ہوتا ہے یا اپنے ہم مشرب ٹولے کے ساتھ ہوتا ہے تو اطاعت ترک کردیتا ہے اور ایسے کام کرتا ہے جو اطاعت کی ضد ہوتے ہیں تو ایسی اطاعت جس کا اس نے اظہار کیا ہے اس کے لئے نفع مند اور مفید نہیں ہے۔ اسی قسم کے لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ویقولون طاعۃ) ” وہ کہتے ہیں مان لیا۔“ یعنی جب وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ہوتے ہیں تو اطاعت کا اظہار کرتے ہیں (فا ذا برزوا من عندک) ” جب وہ آپ کے پاس سے چلے جاتے ہیں“ یعنی تنہا ہوتے ہیں اور ایسی حالت میں ہوتے ہیں کہ کوئی ان کی اس حالت سے مطلع نہیں ہوتا۔ (بیت طآئفۃ منھم غیر الذین تقول) ” مشورہ کرتے ہیں رات کو کچھ لوگ ان میں سے اس کے خلاف جو آپ کہتے ہیں۔“ تورات کے وقت آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کے خلاف تدبیریں کرتے ہیں اور وہاں ان کے پاس نافرمانی کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے ارشاد (بیت طآئفۃ منھم غیر الذین تقول) میں اس امر کی دلیل ہے کہ وہ معاملہ جس کو انہوں نے دائمی و تیرہ بنایا ہوا تھا وہ عدم اطاعت کا رویہ تھا۔ کیونکہ (تبیت) سے مراد رات کے وقت اس طرح معاملات کی تدبیر کرنا ہے کہ اس پر رائے کا استقرار ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے اس فعل پر وعید سناتے ہوئے فرمایا : (واللہ یکتب مایبیتون) ” اور اللہ لکھتا ہے جو وہ رات کو مشورہ کرتے ہیں“ یعنی اللہ تعالیٰ ان کی ان کارستانیوں کو محفوظ کر رہا ہے وہ عنقریب ان کو ان کارستانیوں کی پوری پوری جزا دے گا یہ ان کے لئے وعید ہے۔ ان کی ان کارستانیوں کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اعرضا اور سختی کا حکم دیا ہے۔ اگر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کیا، اس کے دین کی نصرت اور اس کی شریعت کے نفاذ میں اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کی تو وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ (فاعرض عنھم وتوکل علی اللہ وکفی باللہ وکیلا) ” پس آپ ان سے منہ پھیر لیں اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں اللہ تعالیٰ کافی کار ساز ہے۔ “