سورة المجادلة - آیت 11

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قِيلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوا فِي الْمَجَالِسِ فَافْسَحُوا يَفْسَحِ اللَّهُ لَكُمْ ۖ وَإِذَا قِيلَ انشُزُوا فَانشُزُوا يَرْفَعِ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنكُمْ وَالَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ دَرَجَاتٍ ۚ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اے ایمان والو، جب تم سے کہا جائے کہ اپنی مجالس کو کشادہ کرو تو جگہ کشادہ کردیا کرو اللہ تعالیٰ تمہارے لیے کشادگی کردے گا، اور جب تم سے کہا جائے گا کہ اٹھ کر چلے جاؤ تو چلے جایا کرو جو لوگ تم میں سے ایمان لائے اور جن لوگوں نے علم حاصل کیا سو اللہ تعالیٰ ان کے مدارج کو ترقی دیتا ہے اور ارتفاع بخشتا ہے اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے پوری طرح باخبر ہے (٥)۔

تفسیر السعدی - عبدالرحمٰن بن ناصر السعدی

یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے ادب کی تعلیم ہے کہ جب وہ کسی مجلس میں اکٹھے ہوتے ہیں تو ان میں سے کچھ لوگ یا آنے والے دیگر لوگ مجلس میں کشادگی کی ضرورت محسوس کرتے ہیں ،لہذا یہ آداب مجلس کا حصہ ہے کہ وہ اس مقصد کے حصول کی خاطر مجلس میں کشادگی پیدا کریں۔ یہ چیز کشادگی کرنے والے کو کوئی نقصان نہیں دیتی، لہذا اس کو ضرر لاحق ہوئے بغیر اس کے بھائی کا مقصد حاصل ہوجاتا ہے ،اور جزا عمل کی جنس میں سے ہوتی ہے، اس لیے جو کوئی اپنے بھائی کے لیے کشادگی پیدا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے کشادگی پیدا کردیتا ہے، جو کوئی اپنے بھائی کے لیے وسعت پیدا کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے وسعت پیدا کرتا ہے۔ ﴿وَاِذَا قِیْلَ انْشُزُوْا﴾ جب کسی ضرورت کے تحت یہ کہا جائے کہ اٹھ جاؤ اور اپنی مجالس کو چھوڑ دو ﴿ فَانشُزُوا ﴾ تو اس مصلحت کے حصول کی خاطر فورا اٹھ جایا کرو کیونکہ اس قسم کے معاملات کالحاظ رکھنا علم اور ایمان کا حصہ ہے ۔اللہ تعالیٰ اہل علم و ایمان کے، ان کے علم و ایمان کے مطابق، درجات بلند کرتا ہے۔ ﴿ وَاللّٰہُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِیْرٌ﴾ ”اور اللہ تعالیٰ ہر اس عمل سے جو تم کرتے ہو خوب خبردار ہے۔“ پس وہ ہر عمل کرنے والے کو ان کے عمل کی جزا دے گا، اگر اچھا عمل ہوگا تو اچھی جزا ہوگی اور اگر برا عمل ہوگا تو بری جزا ہوگی۔ اس آیت کریمہ میں علم کی فضیلت کا اثبات ہے، نیز یہ کہ علم کی زینت اور اس کا ثمرہ، اس کے آداب کو اختیار کرنا اور اس کے تقاضے کے مطابق عمل کرنا ہے۔