سورة الرحمن - آیت 27

وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور صرف آپ کے رب کی ذات باقی رہ جائے گی جو صاحب عظمت اور احسان ہے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

( ذُو الْجَلٰلِ وَالْاِکْرَامِ) جو عظمت اور کبریائی کی مالک ہے جو مجد اور بزرگی کی مالک ہے جس کی بنا پر اس کی تعظیم اور عزت کی جاتی ہے اور اس کے جلال کے سامنے سرتسلیم خم کیا جاتا ہے الاکرام سے مراد بے پایاں فضل اور جود ہے جس کے ذریعے سے اللہ اپنے اولیا خواص کو مختلف انواع کے اکرام کے ذریعے سے تکریم بخشتا ہے جس کی بنا پر اس کے اولیا خواص اس کی تکریم کرتے اس کے جلال کا اقرار کرتے ہیں اس کی تعظیم کرتے ہیں اس سے محبت کرتے ہی اس کی طرف رجوع کرتے ہیں اور اس کی عبادت کرتے ہیں۔ پھر فرمایا ( فَبِاَیِّ اٰلَاۗءِ رَبِّکُمَا تُکَذِّبٰنِ) (اے جن وانس) پھر تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔