سورة آل عمران - آیت 139

وَلَا تَهِنُوا وَلَا تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الْأَعْلَوْنَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

(مسلمانو) تم نہ تو کمزور پڑو، اور نہ غمگین رہو، اگر تم واقعی مومن رہو تو تم ہی سربلند ہوگے۔ (٤٥)

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 139-142 اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے اہل ایمان بندوں کا حوصلہ بڑھانے، ان کے عزائم مضبوط اور ان کے ارادوں کو بلند کرنے کے لئے فرماتا ہے : (ولاتھنوا ولاتحزنوا) یعنی تم اس مصیبت کے وقت جو تم پر نازل ہوئی ہے اور اس ابتلاء پر جس سے تم دوچار ہوئے ہو جسمانی کمزوری اور دلی غم کا مظاہرہ نہ کرو۔ کیونکہ دلوں کا حزن و غم اور جسموں کی کمزوری، تمہارے لئے مصیبت میں اضافے اور دشمن کی مدد کا باعث ہوں گے بلکہ دلوں کو مضبوط رکھو اور ان میں استقامت پیدا کرو۔ حزن و غم کو اپنے دلوں سے نکال دو اور اپنے دشمن کے ساتھ قتال کے لئے سخت جان ہوجاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ ایمان کے بلند مرتبہ پر فائز ہیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے فتح و نصرت اور اس کے ثواب کے امیدوار ہیں، اس لئے کمزوری اور حزن و غم کا مظاہرہ ان کے شایان شان نہیں۔ اس قسم کے رویے کا اظہار اس مومن کے لائق نہیں جو اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق دنیاوی اور اخروی ثواب کا طلب گار ہے۔ بنا بریں اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وانتم الاعلون ان کنتم مومنین) ” تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔ “ پھر اللہ تعالیٰ نے اس ہزیمت پر ان کو تسلی دی، جو انہوں نے اٹھائی تھی اور ان عظیم حکمتوں کو باین کیا جو اس ہزیمت پر مرتب ہوئیں۔ چنانچہ فرمایا : (ان یمسکم قرح فقد مس القوم قرح مثلہ) یعنی زخم کھانے کے اعتبار سے تم اور وہ برابر ہو۔ مگر تم اللہ تعالیٰ سے وہ امید رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھتے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ان تکونوا تالمون فانھم یالمون کما تالمون و ترجون من اللہ مالا یرجون) النساء :103/3) ” اگر تمہیں تکلیف پہنچتی ہے تو انہیں بھی تکلیف پہنچتی ہے جیسے تمہیں پہنچتی ہے اور تم اللہ سے ایسی ایمد رکھتے ہو جو وہ نہیں رکھتے۔“ اس میں اللہ تعالیٰ کی حکمت یہ ہے کہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ مومن و کافر اور نیک و بدسب کو حصہ عطا کرتا ہے اور ان ایام کو لوگوں کے مابین ادلتا بدلتا رہتا ہے آج کامیابی ایک گروہ کے لئے ہے تو کل کسی اور گروہ کے لئے۔ کیونکہ یہ دنیا تو آخر کار ختم ہوجانے والی اور فانی ہے مگر اس کے برعکس آخرت ہمیشہ رہنے والی ہے اور وہ صرف اہل ایمان کے لئے ہے۔ (ولیعلم اللہ الذین امنوا) یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت میں سے ہے کہ وہ اپنے بندوں کو ہزیمت اور آزمائش میں مبتلا کرتا ہے تاکہ مومن اور منافق کے درمیان فرق واضح ہوجائے، کیونکہ اگر مومنوں کو تمام جنگوں میں فتح ہی حاصل ہوتی رہے تو اسلام میں ایسے لوگ بھی داخل ہوجائیں گے جو اسلام نہیں چاہتے۔ اگر بعض مواقع پر مسلمان آزمئاش میں مبتلا ہوں تو حقیقی مومن کا پتہ چل جاتا ہے جو مصیبت و مسرت، فراخی اور تنگی ہر حالت میں اسلام میں رغبت رکھتا ہے۔ (ویخذمنکم شھدآء) ” اور تم میں سے گواہ بنائے۔“ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت میں سے ہے، کیونکہ شہادت اللہ تعالیٰ کے ہاں بلند ترین مرتبہ ہے اور اس کے اسباب کے حصول کے بغیر وہاں تک پہنچنا ناممکن ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی اپنے مومن بندوں پر رحمت ہے کہ وہ ان کے لئے اسباب مہیا کرتا ہے جو اگرچہ نفوس کو ناپسند ہوتے ہیں مگر ان اسباب کے ذریعے سے وہ اعلی مراتب اور دائمی نعمتیں حاصل کرلیتے ہیں جو انہیں پسند ہیں۔ (واللہ لایحث الظلمین) ” اور اللہ ظالموں کو پنسد نہیں کرتا‘ یعنی وہ لوگ جنہوں نے اپنے آپ پر ظلم کیا اور اللہ کے راستے میں جہاد کو چھوڑ کر بیٹھ رہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ولو ادادوا الخروج لا عدوالہ عدۃ ولکن کرہ اللہ انبعاثھم فثبطھم و قیل اقعدوا مع القعدین) (التوبہ، 63/9) ” اگر وہ جہاد کے لئے نکلنے کا ارادہ کرتے تو وہ اس کے لئے سامان تیار کرتے مگر اللہ کو ان کا اٹھنا پسند نہ آیا اور ان کو اس سے باز رکھا اور کہا گیا کہم عذور بیٹھے ہوئے لوگوں کے ساتھ تم بھی بیٹھ رہو۔ “ (ولیمحص اللہ الذین امنوا) ” اور یہ کہ اللہ ایمان والوں کو خالص (مومن) بنا دے۔“ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت میں سے ہے کہ وہ ان آزمائشوں کے ذریعے سے اہل ایمان کو گناہوں اور عیبوں سے پاک کرتا ہے۔ اور اس امر کی دلیل یہ ہے کہ شہادت اور اللہ تعالیٰ کے راستے میں جنگ کرنا گناہوں کو مٹا دیتے اور عیوب کو زائل کردیتے ہیں نیز اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو منافقین سے پاک کرتا ہے اور وہ منافقین سے الگ ہوجاتے ہیں اور وہ منافق اور مومن کو پہچان لیتے ہیں اور اس میں یہ بھی اللہ تعالیٰ کی حکمت ہے کہ اس نے یہ سب کچھ کفار کو مٹانے کے لئے مقرر کیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے (جہاد کو) سزا کے ذریعے سے کفار کے استیصال کا سبب بنایا کیونکہ جب کفار فتح یاب ہوتے ہیں تو بغاوت کا رویہ اختیار کرلیتے ہیں اور اپنی سرکشی میں بڑھتے چلے جاتے ہیں چنانچہ وہ اس دنیا ہی میں سزا کے مستحق بن جاتے ہیں اور یہ بھی مومن بندوں پر اللہ کی مہربانی ہے (کہ وہ منافقوں کو جلد ہی دنیا میں عبرت ناک انجام سے دوچار کردیتا ہے) پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (امر حسبتم ان تدخلوا الجنۃ ولما یعلم اللہ الذین جھدوا منکم ویعلم الصبرین) ” کیا تمہارا خیال ہے کہ تم جنت میں چلے جاؤ گے، جب کہ ابھی تک اللہ نے ان لوگوں کو بھی معلوم نہیں کیا جو تم میں سے جہاد کرنے والے ہیں اور معلوم نہیں کیا ثابت قدم رہنے والوں کو؟“ یہ استفہام انکاری ہے۔ یعنی یہ نہ سمجھ لینا اور نہ تمہارے دل میں یہ خیال آئے کہ تم کسی مشقت اور اللہ کی راہ میں اس کی رضا کے لئے کوئی تکلیف اٹھائے بغیر جنت میں داخل ہوجاؤ گے۔ اس لئے کہ جنت بلند ترین منزل مقصود اور سب سے افضل مقام ہے جس کے حصول کے لئے مسابقت کی جاتی ہے۔ مطلوب و مقصو دجتنا زیادہ بڑا ہوگا وہاں تک پہنچانے والا وسیلہ اور عمل بھی اتنا ہی بڑا ہوگا۔ پس ایک راحت کو چھوڑ کر ہی دوسری راحت تک پہنچا جاسکتا ہے اور نعمت کو ترک کر کے ہی دوسری نعمت حاصل کی جاسکتی ہے۔ دنیا کی تکالیف اور مشکلات، جن کا سامنا بندہ مومن کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں کرنا پڑتا ہے۔ نفس کو ان تکالیف کا عادی بنانے کے لئے ان کی مشق کرواتے وقت اور ان کی معرفت حاصل کرتے وقت اہل بصیرت کی نزدیک اللہ تعالیٰ کی نعمت بن جاتی ہیں جن پر وہ مسرت کا اظہار کرتے ہیں اور ان کی کوئی پروا نہیں کرتے یہ اللہ تعالیٰ کا افضل ہے جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ پھر ایک ایسے معاملے میں جس کی وہ خود تمنا کیا کرتے تھے اور اسے حاصل کرنا چاہتے تھے، اس پر ان کے عدم صبر پر اللہ تعالیٰ نے ان کو زجر و توبیخ کی ہے چنانچہ فرمایا : (ولقد کنتم تمنون الموت من قبل ان تلقوہ) ” اور تم تو آرزو کرتے تھے مرنے کی اس کی ملاقات سے پہلے“ اس آیت کریمہ کے نزول کا پس منظر یہ ہے کہ وہ صحابہ کرام جو جنگ بدر میں شریک نہ ہوسکے تھے، وہ آرزو کیا کرتے تھے اگر اللہ تعالیٰ انہیں کسی معرکے میں شرکت کا موقع عطا کرے تو وہ اس میں اپنی جان لڑا دیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے فرمایا : (فقد رایتموہ) یعنی جس چیز کی تم تمنا کیا کرتے تھے تم نے اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا (وانتم تنظرون) اب تمہیں کیا ہوگیا تم نے صبر کیوں چھوڑ دیا؟ یہ حالت خاص طور پر اس شخص کے لائق نہیں جو اس کی آرزو کیا کرتا تھا اور اسے وہ چیز حاصل ہوگئی ہو جس کی اسے آرزو تھی۔ اس پر تو واجب یہ ہے کہ اب وہ اس کے لئے اپنی پوری کوشش، جہد اور طاقت صرف کر دے۔ اس آیت کریمہ میں اس امر کی دلیل ہے کہ شہادت کی تمنا کرنا ناجائز نہیں۔ اس میں استدلال کا پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی آرزو پر برقرار رکھا اور ان کی آرزو کا انکار نہیں کیا۔ البتہ اس میں استدلال کا پہلو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ان کی آرزو پر برقرار رکھا اور ان کی آرزو کا انکار نہیں کیا۔ البتہ اللہ تعالیٰ نے اس تمنا کے تقاضے کو پورا کرنے کے لئے ان کے عمل نہ کرنے پر نکیر کی ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔