سورة يس - آیت 52

قَالُوا يَا وَيْلَنَا مَن بَعَثَنَا مِن مَّرْقَدِنَا ۜ ۗ هَٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمَٰنُ وَصَدَقَ الْمُرْسَلُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

کہیں گے، ہائے خرابی ہماری، ہم کو کس نے ہماری خواب گاہوں سے اٹھادیا؟ (جواب دیا جائے گا) یہ وہی چیز ہے جس کا خدائے رحمان نے وعدہ کیا تھا اور رسولوں نے سچ فرمایا تھا

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 51 صور کی پہلی آواز گھبراہٹ اور موت کی آواز ہوگی اور یہ دوسری آواز مردوں کے زندہ ہونے اور اٹھنے کے لئے ہوگی۔ جب دوبارہ صور پھونکا جائے گا توہ اپنی قبروں سے نکل کر جلدی سے اپنے رب کے حضور حاضر ہوں گے اور وہ کسی قسم کی تاخیر اور دیر نہ کرسکیں گے۔ اس حال میں، رسولوں کی تکذیب کرنے والے بہت غم زدہ ہوں گے۔ وہ حسرت اور ندامت کا اظہار کرتے ہوئے کہیں گے : (یویلنا من بعثنا من مرقدنا) ” ہائے افسوس ! ہمیں ہماری خواب گاہوں سے کس نے اٹھایا؟“ یعنی ہمیں ہمارے قبروں میں نیند سے کس نے اٹھایا؟ بعض احادیث میں وارد ہے کہ اہل قبور صور پھونکے جانے سے تھوڑی دیر پہلے تک سو رہے ہوں گے۔ ان کو جواب دیا جائے گا : (ھذا ما وعد الرحمٰن و صدق المرسلون) یعنی یہی وہ قیامت ہے جس کا تمہارے ساتھ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں نے وعدہ کیا تھا۔ تمہاری آنکھوں کے سامنے ان کی داقت ظاہر ہوگئی۔ اس مقام پر آپ یہ خیال نہ کریں کہ اللہ تعالیٰ کی صفت ” رحمٰن“ کا ذکر محض اس کے وعدے کی خبر کے لئے کیا گیا ہے۔ اس کا ذکر تو صرف اس بات سے آگاہ کرنے کے لئے کیا گیا ہے کہ وہ اس روز اللہ تعالیٰ کی رحمت کے ایسے مظاہر دیکھیں گے جو کبھی ان کے خیال میں بھی نہ گزرے ہوں گے اور حساب لگانے والوں نے بھی حساب نہ لگایا ہوگا، مثلاً فرمایا : (آیت) ” اس دن حقیقی اقتدار صرف رحمٰن کا ہوگا“ اور فرمایا : (آیت) ” اور رحمٰن کے آگے آوازیں دب جائیں گی۔“ اور اسطرح کے دیگر مقامات جہاں اللہ تعالیٰ نے اپنے صفاتی نام ” رحمٰن“ کا ذکر فرمایا ہے۔ (ان کانت) ” نہیں ہوگا“ اہل قبور کا اپنی قبروں سے اٹھنا (الا صیحۃ واحدۃ) ” مگر ایک ہی زور کی چنگھاڑ“ اسرافیل صور پھونکیں گے اور تمام مردے جی اٹھیں گے (فاذا ھم جمیع لدینا محضرون) اولین و آخرین اور جن و انس سب ہمارے سامنے حاضر کئے جائیں گے تاہ ان کے اعمال کا حساب لیا جائے۔ (فالیوم لاتظلم نفس شیآء) ” پس اس روز کسی شخص پر کچھ بھی ظلم نہیں کیا جائے گا۔“ یعنی ان کی نیکیوں میں کوئی کمی کی جائے گی نہ ان کی برئایوں میں اضافہ (ولا تجزون الا ماکنتم تعملون) یعنی جس خیر و شر کا تم ارتکاب کرو گے صرف اسی کی تمہیں جزا اور سزا ملے گی۔ پس جس نے بھلائی پائی وہ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرے جسے اس کے علاوہ کچھ اور ملا تو اسے صرف اپنے آپ کو ملامت کرنی چاہئے۔