سورة العنكبوت - آیت 26

فَآمَنَ لَهُ لُوطٌ ۘ وَقَالَ إِنِّي مُهَاجِرٌ إِلَىٰ رَبِّي ۖ إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اس پر لوط نے ابراہیم کی تصڈیق کی اور ابراہیم نے کہا میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرتاہوں بے شک وہ زبردست اور کامل حکمت والا ہے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 26 ابراہیم ( علیہ السلام) اپنی قوم کو دعوت دیتے رہے اور ان کی قوم اپنے عناد پر جمی رہی۔ سوائے لوط ( علیہ السلام) کے جو ابراہیم ( علیہ السلام) کی دعوت پر ایمان لے آئے اللہ تعالیٰ نے لوط ( علیہ السلام) کو نبوت سے سرفراز فرما کر ان کی قوم کی طرف مبعوث فرمایا۔ جس کا ذکر عنقریب آئے گا۔ (وقال) جب ابراہیم ( علیہ السلام) نے دیکھا کہ ان کی دعوت کچھ فائدہ نہیں دے رہی تو کہنے لگے (انی مھاجر الی ربی) ” میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں۔” یعنی وہ برے خطہء ارض کو چھوڑ کر بابرکت سر زمین کی طرف نکل گئے.... اس سے مراد ملک شام ہے (انہ ھوالعزیز) ” بے شک وہ بڑاہی غالب ہے۔“ یعنی اللہ تعالیٰ جو غوت کا مالک ہے تمہیں ہدایت دینے پر قادر ہے لیکن وہ حکمت والا ہے اور اس کی حکمت ایسا کرنے متقضی نہیں۔ جب ارا ہوم ( علیہ السلام) اپنی قوم کو اسی حال میں چھوڑ کر چلے گئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ ذکر نہیں فرمایا کہ اس نے ان کو ہلاک کردیا تھا بلکہ صرف یہ ذکر فرمایا کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ( علیہ السلام) کی قوم پر مچھروں کا دروازہ کھول دیا۔ وہ ان کا خون پی گئے‘ گوشت کھا گئے اور ان کے آضری آدمی تک کو ہلاک کر ڈالا اس بارے میں حتمی رائے قائم کرنے کے لئے دلیل پر توقف کرتا چاہیے جو کہ موجود نہیں ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ نے عذاب کے ذریعے سے ان کو تہس نہس کیا ہوتا تو ضرور اس کا ذکر فرماتا جیسے دیگر جھٹلانے دولی امتوں کی ہلاکت کا ذکر فرمایا ہے۔ مگر کیا اس قصہ کا یہ راز تو نہیں کہ حضرت خلیل ( علیہ السلام) مخلوق میں سب سے زیادہ رحیم و شفیق‘ سب سے زیادہ افضل‘ سب سے زیادہ حلیم اور سب سے زیادہ جلیل القدر لوگوں میں سے تھے۔ آپ نے کبھی اپنی قوم کے لئے بد دعا نہیں کی جیسے دیگر بعض انبیائے کرام نے بد دعا کی اور نہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے سبب آپ کی قوم پر عذاب نازل فرمایا.... اس موقف پر یہ واقعہ بھی دلالت کرتا ہے کہ جب فرشتے قوم لوط کو ہلاک کرنے کے لئے آپ کے پاس آئے تو آپ نے قوم لوط کی مدافعت کے لئے ان فرشتوں سے کھگڑا کیا حالانہ وہ آپ کی قوم نہ تھی۔ اصل صورت حال کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ (ووھبنا لہ اسحق و یعقوب) ” اور ہم نے ان کو اسحاق اور یعقوب ( علیہ السلام) دیے۔“ یعنی آپ کے ملک شام کی طرف ہجرت کر جانے کے بعد (وجعلن فی ذریتہ النبوۃ والکتب) ” اور کردی ہم نے ان کی اولاد میں نبوت اور کتاب۔“ آپ کے بعد جو بھی نبی مبعوث ہوا وہ آپ کی اولاد سے تھا اور جو بھی کتاب نازل ہوئی وہ آپ کی اولاد پر نازل ہوئی حتٰی کہ انبیاء کا سلسلہ نبی کریم حضرت محمد مصطفٰی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذریعے سے ختم کردیا گیا۔ یہ اعلٰی ترین مناقب و مفاخر ہیں کہ ہدایت و رحمت‘ سعادت و فلاح اور کامیابی کا مواد آپ کی ذریت میں ہو‘ نیز لہل ایمان اور صالحین آپ کی اولاد کے ہاتھوں پر ایمان لائے اور انہوں نے آپ کی ذریت کے ذریعے سے ہدایت پائی؂ (واتینہ اجرہ فی الدنیا) ” اور ہم نے ان کو دنیا میں بھی ان کا صلہ عنایت کیا۔“ یعنی ہم نے آپ کو نہایت خوبصورت بیوی عطا کی جو حسن و جمال میں تمام عورتوں پر فوقیت رکھتی تھی‘ ہم نے آپ کو وسیع رزق اور اولاد سیسرفراز کیا جن سے آپ کی آنکھیں ٹھنڑی ہوئیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنی نیک لوگوں میں ہوں گے۔“ بلکہ آپ اور حضرت محمد مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) علی الاطلاق تمام مخلوق میں سب زیادہ صالح اور سب سے زیادہ بلند منزلت تھے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے دنیا و آخرت کی سعادت کو جمع کردیا تھا۔