سورة النمل - آیت 87

وَيَوْمَ يُنفَخُ فِي الصُّورِ فَفَزِعَ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَمَن فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَن شَاءَ اللَّهُ ۚ وَكُلٌّ أَتَوْهُ دَاخِرِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور جس دن صور میں پھونکا جائے گا تو جو کوئی بھی آسمان میں اور زمین میں ہے سب گھبرا جائیں گے مگر ہاں جس کو خدا چاہے اور سب اللہ کے حضور عاجز بن کرآئیں گے

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

(آیت 87۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو قیامت کے دن سے، جو انہیں پیش آنے والا ہے، ڈراتا ہے یعنی اس دن انہیں جن سخت مصائب، مشقتوں اور دل کو دہلادینے والے واقعات کا سامنا کرناپڑے گا ان سے ڈرتا ہے، چنانچہ فرمایا : (ویوم ینفخ فی الصور ففزع) ” اور جس دن صور پھونکا جائے گا تو گھبرا اٹھیں گے۔“ صور پھونکے جانے کی وجہ سے۔ (من فی السموت ومن فی الارض) یعنی زمین و آسمان کی تمام مخلوق خوف سے کانپ اٹھے کی اور خوف کی وجہ سے جو انہیں پیش آنے والا ہے سمندر کی موجوں کی مانند ایک دوسرے سے تلاطم خیز ہوں گے (الا من شاء اللہ) سوائے ان لوگوں کے جنہیں اللہ تعالیٰ اکرام و تکریم بخش کرتا ثابت قدمی عطا کرے گا وہ اس گھبراہٹ سے محفوظ رکھے گا۔ (وکل) یعنی صور پھونکے جانے کے وقت تمام مخلوق (اتوہ دخرین) ذلیل اور مطیع ہو کر بارگاہ رب العزت میں حاضر ہوگی جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (ان کل من فی السموت والارض الا اتی الرحمن عبدا) (مریم : ٩١ تا ٣٩) ” زمین اور آسمان کے اندر جو بھی مخلوق ہے وہ سب رحمن کے حضور بندوں کی حیثیت سے حاضر ہوں گے۔“ اور اس روز مالک الملک کے حضور تذلل اور عاجزی میں رؤساء اور عوام سب برابر ہوں گے۔ قیامت کے روز کی ہولناکی کی وجہ سے (تری الجبال تحسبھا جامدۃ) ” آپ پہاڑوں کو دیکھیں گے تو خیال کریں گے کہ وہ جامد ہیں۔“ یعنی آپ ان میں سے کوئی چیز مفقود نہ پائیں گے اور آپ سمجھیں گے کہ یہ تمام پہاڑ اپنے اپنے احوال میں باقی ہیں حالانکہ یہ شدت اور ہولناکی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ہوں گے اور ٹوٹ پھوٹ کر اور غبار بن کر اڑجائیں گے اس لئے فرمایا : (وھی تمرمر السحاب) ” اور وہ بادلوں کی چال چل رہے ہوں گے۔“ اپنی خفت اور شدت خوف کے باعث۔ (صنع اللہ الذی اتقن کل شیء انہ خبیر بما تفعلون) ” یہ اللہ کی کاری گری ہے جس نے ہر چیز کو مضبوط بنایا، بے شک وہ تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے۔“ پس وہ تمہیں تمہارے اعمال کی جزا دے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اس جزا کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرمایا : (من جاء بالحسنۃ) ” جو شخص نیکی لے کر آئے گا۔“ یہ اسم جنسی ہے جو تمام قسم کی قولی، فعلی اور قلبی نیکیوں کو شامل ہے (فلہ خیر منھا) ” تو اس کے لئے اس سے بہتر ہے۔“ یہ کمترین تفصیل ہے۔ (١) (١۔ مصنف (رح) نے اس مقام پر سبقت قلم سے سورۃ الانعام کی آیت (فلہ عشر امثالھا) کی تفسیر کردی ہے) (وھم من فزع یومذ امنون) یعنی وہ ان تماما مور سے مامون اور مصون ہوں گے جن سے مخلوق گھبراہٹ اور خوف میں مبتلا ہوگی اگرچہ وہ بھی ان کے ساتھ گھبرارہے ہوں گے۔ (ومن جاء بالسیءۃ) ” اور جو برائی لے کر آئے گا۔“ یہ اسم جنس ہے جو ہر قسم کی برائی کو شامل ہے (فکبت وجوھھم فی النار) یعنی انہیں چہروں کے بل جہنم میں پھینکا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا (ھل تجزون الا ما کنتم تعملون) ” تم کو تو ان ہی اعمال کا بدلہ ملے گا جو تم کرتے رہے ہو۔ “