سورة النمل - آیت 65

قُل لَّا يَعْلَمُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا اللَّهُ ۚ وَمَا يَشْعُرُونَ أَيَّانَ يُبْعَثُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

آپ ان سے کہہ دیجئے جو بھی آسمانوں اور زمین میں سے کسی کو غیب کا علم نہیں ہے اور نہ ان کو یہ خبر ہے کہ وہ کب اٹھائیں جائیں گے (١٠)

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

(آیت 65 اللہ تبارک و تعالیٰ آگاہ فرماتا ہے کہ صرف وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کے غیب کا علم رکھتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : (آیت) (الانعام : ٦ / ٩٥) ” اور اسی کے پاس ہیں غیب کی کنجیاں، اس کے سوا انہیں کوئی نہیں جانتا، جو کچھ بروبحر میں ہے وہ سب جانتا ہے، کوئی پتا نہیں جھڑتا مگر وہ اس کے علم میں ہوتا ہے۔ کوئی تر اور کوئی سوکھی چیز نہیں مگر ایک واضح کتاب میں درج ہے۔“ اور فرمایا : (آیت) (لقمان : ٣١ / ٤٣) ” قیامت کی گھڑی کا اللہ ہی کو علم ہے، وہی بارش برساتا ہے وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے رحموں میں کیا ہے، کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ وہ کل کیا کمائی کرنے والا ہے اور کوئی متنفس یہ نہیں جانتا کہ اسے کس سرزمین میں موت آئے گی بے شک اللہ ہی جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہے۔ “ اس قسم کے تمام غیوب کے علم کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ساتھ مختص کیا ہے۔ پس کوئی مقرب فرشتہ یا نبی بھی ان کو نہیں جانتا اور چونکہ وہ اکیلا غیب کا علم رکھتا ہے، اس کا علم تمام بھیدوں، باطنی اور خفیہ امور کا احاطہ کئے ہوئے ہے اس لئے اس کے سوا کوئی ہستی عبادت کے لائق نہیں۔ پھر اللہ تبارک و تعالیٰ نے آخر کی تکذیب کرنے والوں کے ضعف علم کے بارے میں ایک کمتر چیز سے برترچیز کی طرف منتقل کرتے ہوئے آگاہ کیا اور فرمایا : (وما یشعرون) یعنی وہ نہیں جانتے (ایان یبعصون) ” وہ کب اٹھائے جائیں گے؟“ یعنی قبروں سے دوبارہ زندہ کرکے کب کھڑا کیا جائے گا۔ یعنی پس اسی لئے انہوں نے تیاری نہیں کی۔ (بل ادرک علمھم فی الاخرۃ) ” بلکہ ان کا علم آخرت کے بارے میں ختم ہوگیا ہے۔“ یعنی بلکہ ان کا علم کمزور ہے، ان کا علم یقینی نہیں ہے اور وہ ایسا علم نہیں جو قلب کی گہرائیوں تک پہنچ سکے۔ یہ علم کا قلیل ترین اور ادنیٰ ترین درجہ ہے۔ بلکہ ان کے پاس کوئی قوی علم ہے نہ کمزور (بل ھم فی شک منھا) ” بلکہ وہ اس سے شک میں ہیں۔“ یعنی آخرت کے بارے میں۔ شک علم کو زائل کردیتا ہے کیونکہ علم اپنے تمام مراتب میں کبھی شک کے ساتھ یکجا نہیں ہوتا۔ (بل ھم منھا) ” بلکہ وہ اس سے“ یعنی آخرت کے بارے میں (عمون) ” اندھے ہیں۔“ ان کی بصیرتیں ختم ہوگئیں۔ ان کے دلوں میں آخرت کے وقوع کے بارے میں کوئی علم ہے نہ اس کا کوئی احتمال بلکہ وہ آخرت کا انکار کرتے ہیں اور اس کو بہت بعید سمجھتے ہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وقال الذین کفروء اذا کنا تراباواباؤنا انا لمخرجون) ” اور کافروں نے کہا کہ جب ہم مٹی ہوجائیں گے اور ہمارے باپ دادا بھی، کیا ہم پھر نکالے جائیں گے۔“ یعنی یہ بہت بعید اور ناممکن ہے۔ انہوں نے کامل قدرت والی ہستی کی قدرت کو اپنی کمزور قدرت پر قیاس کیا۔ (لقا وعدنا ھذا) ” ہم سے بھی اور اس سے پہلے ہمارے باپ دادوں سے بھی“ لیکن یہ وعدہ ہمارے سامنے پورا ہوا نہ ہم نے اس کی بابت کچھ دیکھا۔ (ان ھذا الا اساطیر الاولین) یعنی، یہ تو محض پہلے لوگون کے قصے کہانیاں ہیں جن کے ذریعے سے وقت گزاری کی جاتی ہے۔ اس کی کوئی اصل ہے نہ ان میں کوئی سچائی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے آخرت کی تکذیب کرنے والوں کے احوال کے بارے میں ایک مرحلے کے بعد دوسرے مرحلے کی خبردی کہ وہ کئی علم نہیں رکھتے کہ قیامت کب آئے گی، پھر اس بارے میں ان کے ضعف علم کی خبر دی، پھر آگاہ فرمایا کہ وہ شک میں مبتلا ہیں پھر فرمایا کہ وہ اندھے ہیں پھر خبردی کہ وہ اس کا انکار کرتے ہیں اور اسے بعید سمجھتے ہیں۔۔۔ یعنی ان احوال کے سبب سے ان کے دلوں سے آخرت کا خوف نکل گیا اس لئے انہوں نے گناہ اور معاصی کا اعتکاب کیا، ان کے لئے تکذیب حق اور تصدیق باطل آسان ہوگئی اور عبادت کے مقابلے میں انہوں نے شہوات کو حلال ٹھہرالیا۔ پس وہ دنیا و آخرت کے خسارے میں پڑگئے۔