سورة الفرقان - آیت 61

تَبَارَكَ الَّذِي جَعَلَ فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا وَجَعَلَ فِيهَا سِرَاجًا وَقَمَرًا مُّنِيرًا

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

کیا مبارک ہے ذات قدوس اس کی جس نے آسمان میں (گردش سیارات کے) دائرے بنائے اور اس میں آفتاب کی مشعل روشن کردی، نیز روشن ومنور چاند بنایا

تفسیر السعدی - عبدالرحمٰن بن ناصر السعدی

اللہ تعالیٰ نے اس سورۃ کریمہ میں (تبارک) کا لفظ تین مرتبہ استعمال فرمایا ہے کیونکہ، جیسا کہ گزشتہ صفحات میں گزر چکا ہے، یہ لفط باری تعالیٰ کی عظمت، اس کے اوصاف کی کثرت اور اس کے احسان اور بھلائی کی وسعت پر دلالت کرتا ہے۔ یہ سورۃ مبارکہ اللہ تعالیٰ کی عظمت، اس کی لامحدود قوت وتسلط، اس کی مشیت کے نفوذ، اس کے علم و قدرت کے عموم، امری و جزائی احکام پر اس کے احاطہ اختیار اور اس کی کامل حکمت پر دلالت کرتی ہے۔ اس میں بعض ایسی چیزیں بھی ہیں جو اس کی بے پایاں رحمت، اس کے وسیع جودو کرم اور اس کے دینی و دنیاوی احسانات پر دلالت کرتی ہیں یہ تمام اس وصف حسن کے تکرار کا تقاضا کرتے ہیں۔ چنانچہ فرمایا : ﴿ تَبَارَكَ الَّذِي جَعَلَ فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا ﴾ ” اور بڑی بابرکت ہے وہ ذات جس نے آسمانوں میں برج بنائے۔“ یہ عام ستارے ہیں یا سورج اور چاند کی منازل ہیں جہاں وہ منزل بمنزل چلتے رہتے ہیں اور وہ منازل ایسی ہیں جیسے شہروں کی حفاظت کے لئے برج اور قلعے ہوتے ہیں۔ اس طرح ستارے ان برجوں کی مانند ہوتے ہیں جو حفاظت کیلئے بنائے جاتے ہیں۔۔۔ کیونکہ یہ ستارے شیاطین کے لئے شہاب ثاقب ہیں﴿ وَجَعَلَ فِيهَا سِرَاجًا ﴾ ’’اور اس میں (آفتاب کو) چراغ بنایا۔“ یعنی جس میں روشنی اور حرارت ہو اس سے مراد سورج ہے ﴿ وَقَمَرًا مُّنِيرًا ﴾ ” اور چمکتا ہوا چاند بھی بنایا۔“ جس میں روشنی ہو مگر حرارت نہ ہو (وہ چاند ہے) یہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی عظمت اور اس کے بے شمار احسانات کی دلیل ہے، چونکہ اس میں نمایاں تخلیق، انتہائی منظم تدبیر اور عظیم جمال ہے اس لئے یہ اپنے خالق کے تمام اوصاف میں اس کی عظمت پر دلالت کرتی ہے اور چونکہ ان میں مخلوق کے لئے مصالح اور منافع ہیں اس لئے یہ اس کی بھلائیوں کی کثرت پردلالت کرتی ہے۔