سورة النور - آیت 51

إِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِينَ إِذَا دُعُوا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ لِيَحْكُمَ بَيْنَهُمْ أَن يَقُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ۚ وَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

مومنوں کی شان تو یہ ہے کہ جب اللہ اور اس کے رسول کی طرف فیصلے کے لیے بلائے جائیں، تو ان کا جواب اس کے سوا کچھ نہ ہو کہ ہم نے حکم مانا، یقینا ایسے ہ لوگ ہیں جو (دنیا وآخرت میں) کامیاب ہوئے (٣٨)۔

تفسیر السعدی - عبدالرحمٰن بن ناصر السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ نے احکام شریعت سے رو گردانی کرنے والوں کا حال بیان کرنے کے بعد، اہل ایمان جو مدح کے مستحق ہیں، کا حال بیان کیا ہے، چنانچہ فرمایا: ﴿ إِنَّمَا كَانَ قَوْلَ الْمُؤْمِنِينَ ﴾ یعنی حقیقی مومن جنہوں نے اپنے اعمال کے ذریعے اپنے ایمان کی تصدیق کی جب انہیں اللہ اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے خواہ یہ فیصلہ ان کی خواہشات نفس کے موافق ہے یا مخالف ﴿أَن يَقُولُوا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا ﴾ ” وہ کہتے ہیں کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی۔“ یعنی ہم نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلے کو سنا اور جس نے ہمیں اس فیصلے کی طرف بلایا ہم نے اس کی آواز پر لبیک کہا اور ہم نے مکمل طور پر بغیر کسی تنگی کے، اس کی اطاعت کی۔ ﴿ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ﴾ ” اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔“