سورة طه - آیت 46

قَالَ لَا تَخَافَا ۖ إِنَّنِي مَعَكُمَا أَسْمَعُ وَأَرَىٰ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

ارشاد ہوا کچھ اندیشہ نہ کرو، میں تمہارے ساتھ ہوں، میں سب کچھ سنتا ہوں، سب کچھ دیکھتا ہوں۔

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

آیت 46 اللہ تبارک و تعالیٰ نے موسیٰ کو دینی اور دنیاوی نعمتوں سے نوازنے کے بعد فرمایا : (اذھب انت واخوک) ” جاتو اور تیرا بھائی۔“ یعنی ہارون (بایتی) ” میری نشانیوں کے ساتھ“ یعنی ان نشانیوں کے ساتھ جائیں جو حق کے حسن اور باطل کی قباحت پر دلالت کرتی ہیں، مثلاً یدبیضا اور عصا سمیت نو معجزات لے کر فرعون اور اس کی اشرافیہ کے پاس جائیں۔ (ولا تنیا فی ذکری) ” اور تم دونوں میرے ذکر میں سستی نہ کرو۔“ یعنی میرا ذکر ہمیشہ کرتے رہو اور اس کو دائمیطور پر قائم رکھتے ہوئے کسی سستی کا شکار نہ ہو، میرے ذکر کو لازم بناؤ جیاس کہ تم دونوں نے خود ان الفاظ میں وعدہ کیا ہے۔ (کی نسبح کثیراً، ونذکرک کثیراً) طہ :33,33,20) اس لئے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر تمام معاملات میں مدد و معونت فراہم کر کے ان کو سہل بناتا ہے اور ان معاملات کے بوجھ میں تخفیف کرتا ہے۔ (اذھبا الی فرعن انہ طغی) ” تم دونوں فرعون کی طرف جاؤ، وہ سرکش ہوگیا ہے۔“ یعنی وہ کفر، سرکشی، ظلم اور تعدی کی تمام حدود پھلانگ گیا ہے۔ (فقولا لہ قولاً لیناً) لفظی آداب کا خیال رکھتے ہوئے، نرمی کے ساتھ نہایت سہل اور لطیف بات کیجیے، فحش گوئی، ڈینگیں مارنے، سخت الفاظ اور درشت افعال سے پرہیز کیجیے۔ (لعلہ) شاید وہ اس نرم گوئی کے سبب سے (یتذکر) نصیحت پکڑے جو اس کو فائدہ دے اور وہ اس پر عمل کرنے لگے (یخشی) اور نقصان دہ چیز سے ڈرے اور اسے ترک کر دے کیونکہ نرم گوئی اس کی طرف دعوت دیتی ہے اور سخت گوئی لوگوں کو اس سے متنفر کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ” نرم گوئی“ کی اپنے ارشاد میں تفسیر بیان کی ہے۔ (آیت) ” اور اس سے کہئے کہ کیا تو چاہتا ہے کہ پاک ہوجائے اور میں تیرے رب کی طرف تیری راہنمائی کروں تاکہ تو اپنے رب سے ڈرنے لگے؟“ کیونکہ اس قول میں جو نرمی اور آسانی پنہاں ہے اور سختی اور درشتی سے جس طرح پاک ہے، غور کرنے والے پر مخفی نہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے (ھل) کا لفظ استعمال کیا ہے جو (عرض) اور ” مشاورت“ پر دلالت کرتا ہے جس سے کوئی شخص نفرت نہیں کرتا اور اسے ہر قسم کی گندگی سے تطہیر اور تزکیہ کی طرف بلایا ہے۔ جس کی اصل شرک کی گندگی سے تطہیر ہے جسے ہر عقل سلیم قبول کرتی ہے۔ آپ نے یہ نہیں فرمایا (ازکیک) ” میں تجھے پاک کروں“ بلکہ فرمایا : (ترکی) یعنی ” تو خود پاک ہوجائے۔ “ پھر موسیٰ نے اسے اس کے رب کی طرف بلایا جس نے اس کی پرورش کی اور اسے ظاہیر اور باطنی نعمتوں سے نوازا جن پر کشر اور ذکر کرنا چاہئے۔ اس لئے فرمایا : (آیت) ” اور تاکہ میں تیرے رب کی طرف تیری راہنمائی کروں تاکہ تو اپنے رب سے ڈرنے لگے۔“ جب فرعون نے اس کلام نرم و نازک کو قبول نہ کیا، جس کا حسن دلوں کو پکڑ لیتا ہے تو معلوم ہوا کہ اس کو وعظ و نصیحت کا کوئی فائدہ نہیں، تو اللہ تعالیٰ نے اسے اسی طرح پکڑ لیا جس طرح ایک غالب اور مقتدر ہستی پکڑتی ہے۔ (قالا ربنا اننا نخاف ان یفرط علینا) ” دونوں نے کہا، اے ہمارے رب ! ہم اس بات سے ڈرتے ہیں کہ وہ ہم پر زیادتی کرے۔“ یعنی کہیں وہ ہمیں عقوبت میں نہ ڈال دے اور تیرا پیغام پہنچانے اور اس پر حجت قائم کرنے سے پہلے ہی کہیں ہمیں کسی تعذیب میں مبتلا نہ کر دے (او ان یطغی) یا وہ حق کے خلاف تکبر سے اقتدار و سلطنت، اپنے اعوان اور اپنی افواج کی بنا پر سرکشی نہ دکھائے۔ (قال لاتخافاً) فرمایا، اس بات سے نہ ڈرو کہ وہ تم پر زیادتی کرے گا۔ (اننی معکما اسمع واری) ” میں تم دونوں کے ساتھ ہوں، سنتا اور دیکھتا ہوں۔“ یعنی تم دونوں میری حفاظت اور گنرانی میں ہو، میں تمہاری بات کو سن رہا اور تمہارے تمام احولا کو دیکھ رہا ہوں اس لئے فرعون سے نہ ڈرو ! چنانچہ ان دونوں کے دلوں سے فرعون کا خوف زائل ہوگیا اور اپنے رب کے وعدے پر ان کا دل مطمئن ہوگیا۔