سورة الرعد - آیت 10

سَوَاءٌ مِّنكُم مَّنْ أَسَرَّ الْقَوْلَ وَمَن جَهَرَ بِهِ وَمَنْ هُوَ مُسْتَخْفٍ بِاللَّيْلِ وَسَارِبٌ بِالنَّهَارِ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

تم میں کوئی چپکے سے کوئی بات کہے یا پکار کے کہیے، رات کی تاریکی میں چھپا ہو یا دن کی روشنی میں راہ چل رہا ہو، ساری حالتیں اس کے لیے یکساں ہیں (اس کے علم سے کوئی بات مخفی نہیں)

السعدی تفسیر - عبدالرحمن بن ناصر السعدی

(سوآء منکم) ” برابر ہے تم میں سے“ یعنی اس کے علم اور سمع و بصر میں (من اسر القول و من جھربہ ومن ھو مستخف بالیل) ” جو آہستہ بات کہے اور جو پکار کر کہے اور جو چھپنے والا ہے رات میں“ یعنی رات کے وقت کسی خفیہ مقام پر ٹھہرا ہوا ہے۔ (وسارب بالنھار) ” اور جو دن میں چلنے والا ہے۔“ یعنی دن کے وقت اپنی پناہ گاہ کے اندر ہے اور (السرب) اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں انسان چھپتا ہے، خواہ یہ جگہ گھر کے اندر ہو، کوئی غار ہو یا کوئی کھوہ وہغیرہ ہو۔