سورة یوسف - آیت 13

قَالَ إِنِّي لَيَحْزُنُنِي أَن تَذْهَبُوا بِهِ وَأَخَافُ أَن يَأْكُلَهُ الذِّئْبُ وَأَنتُمْ عَنْهُ غَافِلُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

(باپ نے کہا) یہ بات مجھے غم میں ڈالتی ہے کہ تم اسے اپنے ہمراہ لے جاؤ، اور میں ڈرتا ہوں کہیں ایسا نہ ہو بھیڑیا کھا لے اور تم اس سے غافل ہو۔

تفسیر السعدی - عبدالرحمٰن بن ناصر السعدی

﴿ اِنِّیْ لَیَحْزُنُنِیْٓ اَنْ تَذْہَبُوْا بِہٖ﴾ ’’تمہارا اس یوسف کو محض ساتھ لے جانا ہی مجھے غم زدہ کرتا ہ‘‘اور مجھ پر شاق گزرتا ہے کیونکہ میں اس کی جدائی برداشت نہیں کرسکتا خواہ یہ تھوڑے سے وقت کے لیے ہی کیوں نہ ہو اور یہ چیز یوسف علیہ السلام کو تمہارے ساتھ بھیجنے سے مانع ہے اور دوسرا مانع یہ ہے﴿ وَاَخَافُ اَنْ یَّاْکُلَہُ الذِّئْبُ وَاَنْتُمْ عَنْہُ غٰفِلُوْنَ﴾’’مجھے یہ بھی اندیشہ ہے کہ تم اس سے غافل ہوجاؤ اور اسے بھیڑیا کھا جائے۔‘‘ تمہارے، اس سے غفلت کرنے کی وجہ سے، کیونکہ وہ چھوٹا ہے اور اپنی حفاظت نہیں کرسکتا۔