سورة الاعراف - آیت 80

وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ أَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُم بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِّنَ الْعَالَمِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور لوط کا واقعہ (١) یاد کرو جب اس نے اپنی سے کہا تھا، کیا تم ایسی بے حیائی کا کام کرنا پسند کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا میں کسی انسان نے نہیں کیا؟

تفسیر السعدی - عبدالرحمٰن بن ناصر السعدی

﴿وَلُوطًا ﴾ یعنی ہمارے بندے لوط (علیہ السلام) کا ذکر کیجیے جب ہم نے ان کو ان کی قوم کی طرف مبعوث کیا کہ وہ انہیں صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حکم دیں اور انہیں اس برائی سے روکیں جو پورے جہاں میں ان سے پہلے کسی نے نہیں کی۔ لوط علیہ السلام نے کہا ﴿ أَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ ﴾ ” کیا تم کرتے ہو ایسی بے حیائی“ یعنی تم ایک ایسے گناہ کا ارتکاب کرتے ہوئے جس کی قباحت اتنی زیادہ ہے کہ فواحش کی تمام اقسام کو اس نے اپنے اندر سمیٹ لیا ہے۔﴿ مَا سَبَقَكُم بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِّنَ الْعَالَمِينَ﴾ ” کہ تم سے پہلے نہیں کیا اس کو کسی نے جہان میں“ اس کا فحش ہونا قبیح ترین چیز ہے اور یہ کہ اس قبیح فعل کو ان لوگوں نے شروع کر کے بعد میں آنے والوں کے لئے رواج دیا تھا، اس سے بھی قبیح تر ہے۔