سورة العصر - آیت 3

إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَتَوَاصَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

مگر ہاں وہ نفوس قدسیہ جوقوانین الٰہیہ پر ایمان لائے اور اعمال صالحہ اختیار کیے ایک دوسرے کو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ذریعے سے دین حق کی وصیت کرتے رہے، نیز صبر واستقامت کی بھی انہوں نے تعلیم دی ہے۔

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٣۔ ١ ہاں اس خسارے سے وہ لوگ محفوط ہیں جو ایمان اور عمل صالح کے جامع ہیں، کیونکہ ان کی زندگی چاہے جیسی بھی گزری ہو، موت کے بعد وہ بہر حال ابدی نعمتوں اور جنت کی پر آسائش زندگی سے بہرہ ور ہوں گے۔ آگے اہل ایمان کی مزید صفات کا تذکرہ ہے۔ ٣۔ ٢ یعنی اللہ کی شریعت کی پابندی اور محرمات ومعاصی سے اجتناب کی تلقین۔ ٣۔ ٣ یعنی مصائب و آلام پر صبر، احکام و فرائض شریعت پر عمل کرنے میں صبر، معاصی سے اجتناب پر صبر، لذات و خواہشات کی قربانی پر صبر، صبر بھی اگرچہ تواصی بالحق میں شامل ہے، تاہم اسے خصوصیت سے الگ ذکر کیا گیا، جس سے اس کا شرف و فضل اور خصال حق میں اس کا ممتاز ہونا واضح ہے۔