سورة الزمر - آیت 47

وَلَوْ أَنَّ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا وَمِثْلَهُ مَعَهُ لَافْتَدَوْا بِهِ مِن سُوءِ الْعَذَابِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۚ وَبَدَا لَهُم مِّنَ اللَّهِ مَا لَمْ يَكُونُوا يَحْتَسِبُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اگر ان ظالموں کے پاس وہ سب کچھ ہوجوزمین میں ہے اور اتنا ہی اور بھی ہوتویہ لوگ قیامت کے دن برے عذاب سے بچنے کے لیے سب کچھ فدیہ میں دینے کو تیار ہوجائیں گے اور وہاں اللہ کی طرف سے ان کے سامنے وہ کچھ ظاہر ہوگا جس کا وہ وہم وگمان بھی نہ رکھتے تھے۔

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٤٧۔ ١ لیکن پھر بھی وہ قبول نہیں ہوگا جیسا کہ دوسرے مقام پر وضاحت ہے (فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ ۚ وَھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ) 3۔ ال عمران :85) ' وہ زمین بھر سونا بھی بدلے میں دے دیں، تو وہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ اس لیے کہ ولا یوخذ منہا عدل وہاں معاوضہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ ٤٧۔ ١ یعنی عذاب کی شدت اور اس کی ہولناکیاں اور اس کی انواع واقسام ایسی ہوں گی کہ کبھی ان کے گمان میں نہ آئی ہوں گی۔