سورة آل عمران - آیت 106

يَوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوهٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوهٌ ۚ فَأَمَّا الَّذِينَ اسْوَدَّتْ وُجُوهُهُمْ أَكَفَرْتُم بَعْدَ إِيمَانِكُمْ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْفُرُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اس دن جب کچھ چہرے چمکتے ہوں گے اور کچھ چہرے سیاہ پڑجائیں گے۔ چنانچہ جن لوگوں کے چہرے سیاہ پڑجائیں گے ان سے کہا جائے گا کہ : کیا تم نے اپنے ایمان کے بعد کفر اختیار کرلیا؟ (٣٦) لو پھر اب مزہ چکھو اس عذاب کا، کیونکہ تم کفر کیا کرتے تھے۔

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

١٠٦۔ ١ حضرت ابن عباس (رض) نے اس سے اہل سنت والجماعت اور اہل بدعت وافتراق مراد لئے ہیں (ابن کثیر و فتح القدیر) جس سے معلوم ہوا اسلام وہی ہے جس پر اہل سنت والجماعت عمل پیرا ہیں اور اہل بدعت و اہل افتراق اس نعمت اسلام سے محروم ہیں جو ذریعہ نجات ہے۔