سورة الصافات - آیت 63

إِنَّا جَعَلْنَاهَا فِتْنَةً لِّلظَّالِمِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

ہم نے اس درخت کو ظالموں کے لیے موجب فتنہ بنایا ہے

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٦٣۔ ١ آزمائش اس لئے کہ اس کا پھل کھانا بجائے خود ایک بہت بڑی آزمائش ہے۔ بعض نے اسے اس اعتبار سے آزمائش کہا کہ اس کے وجود کا انہوں نے انکار کیا کہ جہنم میں جب ہر طرف آگ ہی آگ ہوگی تو وہاں درخت کس طرح موجود رہ سکتا ہے؟ یہاں ظالمین سے مراد اہل جہنم ہیں جن پر جہنم واجب ہوگی۔