سورة سبأ - آیت 9

أَفَلَمْ يَرَوْا إِلَىٰ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُم مِّنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ ۚ إِن نَّشَأْ نَخْسِفْ بِهِمُ الْأَرْضَ أَوْ نُسْقِطْ عَلَيْهِمْ كِسَفًا مِّنَ السَّمَاءِ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِّكُلِّ عَبْدٍ مُّنِيبٍ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

کیا انہوں نے آسمان اور زمین پر نظر ڈالی جوان کے آگے اور پیچھے موجود ہے۔ اگر ہم چاہیں تو ان کو زمین میں دھنسا دیں یا آسمان کے کچھ ٹکڑے ان پر گرادیں، بلاشبہ اس میں ہراس بندے کے لیے نشانی ہے جو خدا کی طرف رجوع کرنے والا ہے

تفسیر احسن البیان - حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ

1- یعنی اس پر غور وفکر نہیں کرتے؟ اللہ تعالیٰ ان کی زجر وتوبیخ کرتے ہوئے فرما رہا ہےکہ آخرت کا یہ انکار، آسمان وزمین کی پیدائش میں غوروفکر نہ کرنے کا نتیجہ ہے، ورنہ جو ذات آسمان جیسی چیز، جس کی بلندی اور وسعت ناقابل بیان ہے اور زمین جیسی چیز، جس کا طول وعرض بھی ناقابل فہم ہے، پیدا کرسکتا ہے۔ اس کے لئے اپنی ہی پیدا کردہ چیز کا دوبارہ پیدا کردینا اور اسے دوبارہ اسی حالت میں لے آنا، جس میں وہ پہلے تھی، کیوں کر ناممکن ہے؟ 2- یعنی یہ آیت دو باتوں پر مشتمل ہے، ایک اللہ کے کمال قدرت کا بیان جو ابھی مذکور ہوا، دوسری، کفار کے لئے تنبیہ وتہدید، کہ جو اللہ آسمان وزمین کی تخلیق پر اس طرح قادر ہے کہ ان پر اور ان کے مابین ہر چیز پر اس کا تصرف اور غلبہ ہے، وہ جب چاہے ان پر اپنا عذاب بھیج کر ان کو تباہ کرسکتا ہے۔ زمین میں دھنسا کر بھی، جس طرح قارون کو دھنسایا یا آسمان کے ٹکڑے گرا کر، جس طرح اصحاب الایکہ کو ہلاک کیا گیا۔