سورة النور - آیت 23

إِنَّ الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ لُعِنُوا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

جو لوگ پاک دامن عورتوں پر، کہ ایسی باتوں سے محض بے خبر ہیں اور اللہ پر ایمان رکھتی ہیں، تہمت لگاتے ہیں تو (یاد رکھو) ایسے لوگوں پر دنیا اور آخرت دونوں میں پھٹکار پڑی ور انہیں ایک بڑے ہی سخت عذاب سے دوچار ہونا ہے۔

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٢٣۔ ١ بعض مفسرین نے اس آیت کو حضرت عائشہ (رض) اور دیگر ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن کے ساتھ خاص قرار دیا ہے کہ اس آیت میں بطور خاص ان پر تہمت لگانے کی سزا بیان کی گئی ہے اور وہ یہ کہ ان کے لئے توبہ نہیں ہے۔ اور بعض مفسرین نے اسے عام ہی رکھا ہے اور اس میں وہی حد قذف بیان کی گئی ہے، جو پہلے گزر چکی ہے۔ اگر تہمت لگانے والا مسلمان ہے تو لعنت کا مطلب ہوگا کہ وہ قابل حد ہے اور مسلمان کے لئے نفرت اور بعد کا مستحق اور اگر کافر ہے، تو مفہوم واضح ہی ہے کہ وہ دنیا و آخرت میں ملعون یعنی رحمت الٰہی سے محروم ہے۔