سورة ھود - آیت 105

يَوْمَ يَأْتِ لَا تَكَلَّمُ نَفْسٌ إِلَّا بِإِذْنِهِ ۚ فَمِنْهُمْ شَقِيٌّ وَسَعِيدٌ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

جب وہ دن آپہنچے گا تو کسی جان کی مجال نہ ہوگی کہ بغیر اللہ کی اجازت کے زبان کھولے، پھر (اس دن انسانوں کی دو قسمیں ہوں گی) کچھ ایسے ہوں گے جن کے لے محرومی ہے اور کچھ ایسے جن کے لیے سعادت۔

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

١٠٥۔ ٤ گفتگو نہ کرنے سے مراد، کسی کو اللہ تعالیٰ سے کسی طرح کی بات یا شفاعت کرنے کی ہمت نہیں ہوگی۔ الا یہ کہ وہ اجازت دے دے۔ طویل حدیث شفاعت میں ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا " اس دن انبیاء کے علاوہ کسی کو گفتگو کی ہمت نہ ہوگی اور انبیاء کی زبان پر بھی اس دن صرف یہی ہوگا کہ یا اللہ! ہمیں بچا لے، ہمیں بچا لے '۔