سورة ھود - آیت 98

يَقْدُمُ قَوْمَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَأَوْرَدَهُمُ النَّارَ ۖ وَبِئْسَ الْوِرْدُ الْمَوْرُودُ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

قیامت کے دن وہ اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا (جس طرح دنیا میں گمراہی کے لیے ہوا) اور انہیں دوزخ میں پہنچائے گا، تو دیکھو کیا ہی پہنچنے کی بری جگہ ہے جہاں وہ پہنچ کر رہے۔

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٩٨۔ ١ یعنی فرعون، جس طرح دنیا میں ان کا رہبر اور پیش رو تھا، قیامت والے دن بھی یہ آگے آگے ہی ہوگا اور اپنی قوم کو اپنی قیادت میں جہنم میں لے کر جائے گا۔ ٩٨۔ ٢ وِرْد پانی کے گھاٹ کو کہتے ہیں، جہاں پیاسے جا کر اپنی پیاس بجھاتے ہیں۔ لیکن یہاں جہنم کو ورد کہا گیا ہے گھاٹ یعنی جہنم جس میں لوگ لے جائے جائیں گے یعنی جگہ بھی بری اور جانے والے بھی برے۔ اعاذنا اللہ منہ