سورة الاعراف - آیت 63

أَوَعَجِبْتُمْ أَن جَاءَكُمْ ذِكْرٌ مِّن رَّبِّكُمْ عَلَىٰ رَجُلٍ مِّنكُمْ لِيُنذِرَكُمْ وَلِتَتَّقُوا وَلَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

(نیز نوح (١) نے کہا) کیا تمہیں اس بات پر اچنبھا ہورہا ہے کہ تمہارے پروردگار کی نصیحت ایک ایسے آدمی کے ذریعہ تمہیں پہنچی تو تم ہی میں سے ہے؟ اور اس لیے پہنچی تاکہ (انکار و بدعملی کے نتائج سے) خبردار کردے۔ اور تم برائیوں سے بچو اور رحمت الہی کے سزاوار رہو۔

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٦٣۔ ١ حضرت نوح (علیہ السلام) اور حضرت آدم (علیہ السلام) کے درمیان دس قرنوں یا دس پشتوں کا فاصلہ ہے، حضرت نوح (علیہ السلام) کے کچھ پہلے تک تمام لوگ اسلام پر قائم چلے آرہے تھے پھر سب سے پہلے توحید سے انحراف اس طرح آیا کہ اس قوم کے صالحین فوت ہوگئے تو ان کے عقیدت مندوں نے ان پر سجدہ گاہیں (عبادت خانے) قائم کردیں اور ان کی تصویریں بھی وہاں لٹکا دیں، مقصد ان کا یہ تھا کہ اس طرح ان کی یاد سے وہ بھی اللہ کا ذکر کریں گے اور ذکر الٰہی میں ان کی مشابہت اختیار کریں گے۔ جب کچھ وقت گزرا تو انہوں نے تصویروں کے مجسمے بنا دیئے اور پھر کچھ عرصہ گزرنے کے بعد یہ مجسمے بتوں کی شکل اختیار کر گئے اور ان کی پوجا پاٹ شروع ہوگئی اور قوم نوح کے یہ صالحین معبود بن گئے۔ ان حالات میں اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو ان میں نبی بنا کر بھیجا جنہوں نے ساڑھے نو سو سال تبلیغ کی۔ لیکن تھوڑے سے لوگوں کے سوا، کسی نے آپ کی تبلیغ کا اثر قبول نہیں کیا بالآخر اہل ایمان کے سوا سب کو غرق کردیا گیا۔ اس آیت میں بتلایا جارہا ہے کہ قوم نوح نے اس بات پر تعجب کا اظہار کیا کہ ان ہی میں کا ایک آدمی نبی بن کر آگیا جو انہیں اللہ کے عذاب سے ڈرا رہا ہے؟ یعنی ان کے خیال میں نبوت کے لئے انسان موزوں نہیں۔