سورة الاعراف - آیت 51

الَّذِينَ اتَّخَذُوا دِينَهُمْ لَهْوًا وَلَعِبًا وَغَرَّتْهُمُ الْحَيَاةُ الدُّنْيَا ۚ فَالْيَوْمَ نَنسَاهُمْ كَمَا نَسُوا لِقَاءَ يَوْمِهِمْ هَٰذَا وَمَا كَانُوا بِآيَاتِنَا يَجْحَدُونَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

(کیونکہ وہ فرماتا ہے) جن لوگوں نے اپنے دین کو کھیل تماشا بنا لیا تھا (یعنی عمل حق کی جگہ ایسے کاموں میں لگے رہے جو کھیل تماشے کی طرح حقیقت سے خالی تھے) اور دنیا کی زندگی نے انہیں دھوکے میں ڈالے رکھا تو جس طرح انہوں نے اس دن کا آنا بھلا دیا تھا آج وہ بھی بھلا دیئے جائیں گے نیز اس لیے کہ وہ ہماری آیتوں سے جان بوجھ کر انکار کرتے تھے۔

تفسیر مکی - مولانا صلاح الدین یوسف صاحب

٥١۔ ١ حدیث میں آتا ہے کہ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ اس قسم کے بندے سے پوچھے گا کیا میں نے تمہیں بیوی بچے نہیں دیئے تھے؟ تمہیں عزت اور اکرام سے نہیں نوازا تھا اور کیا اونٹ اور گھوڑے تیرے تابع نہیں کردیئے تھے؟ کیا تو سرداری کرتے ہوئے لوگوں سے چونگی وصول نہیں کرتا تھا ؟ وہ کہے گا کیوں نہیں؟ یا اللہ یہ سب باتیں صحیح ہیں، اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا، کیا تو میری ملاقات کا یقین رکھتا تھا ؟ وہ کہے گا نہیں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا ' پس جس طرح تو مجھے بھولا رہا آج میں بھی تمہیں بھول جاتا ہوں (صحیح مسلم) قرآن کریم کی اس آیت سے معلوم ہوا کہ دین کو لہو و لعب بنانے والے وہی ہوتے ہیں جو دنیا کے فریب میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے دلوں سے چونکہ آخرت کی فکر اور اللہ کا خوف نکل جاتا ہے۔ اس لئے وہ دین میں بھی اپنی طرف سے جو چاہتے ہیں اضافہ کرلیتے ہیں احکام اور فرائض پر عمل کی اہمیت ختم ہوجاتی ہے۔