سورة المآئدہ - آیت 86

وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور جن لوگوں نے کفر اپنایا ہے اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہے وہ دوزخ والے لوگ ہیں۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی آیات کے ساتھ کفر و تکذیب کا رویہ اختیار کرنے کی وجہ سے لوگ جہنم کا ایندھن بنیں گے۔ اے صاحب ایمان لوگو! تم اللہ کی حلال کردہ چیزوں کو اپنی مرضی سے حرام کرکے زیادتی کے مرتکب نہ ہوجانا، زیادتی کرنے والے اور حد سے بڑھنے والے لوگ عملاً کفر و تکذیب کرنے والے ہوتے ہیں۔ اس آیت میں بنیادی حکم یہ دیا گیا ہے کہ مومنوں کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حلال اور طیّب چیزوں کو من مرضی سے حرام قرار دیں۔ حرام و حلال کی تاریخ دیکھی جائے تو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ لوگوں نے لذت نفس کی خاطر اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو حلال قرار دیا اور کچھ لوگوں نے تقویٰ اور نیکی کے حصول کے لیے حلال کو حرام ٹھہرایا۔ جس طرح کہ بعض صوفیاۓ کرام، ہندو پنڈت، جوگی، بدھ مت کے پیروکار اور عیسائیوں میں بعض پادریوں نے من ساختہ نیکی کے حصول کے لیے لذّات سے اجتناب اور تارک الدّنیا ہونے کا عقیدہ اختیار کیا۔ دین اسلام نے اس بات کی قطعاً اجازت نہیں دی کہ ایمان کا دعویٰ کرنے والے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام قرار دیں اور حدود اللہ سے تجاوز کر جائیں۔ یاد رہے کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک موقع پر یوں فرمایا ہے کہ ہر حکومت کی ایک چراگاہ ہوتی ہے اگر کوئی شخص اپنے مویشی سرکاری چراگاہ کی حدود کے قریب لے جائے گا تو خطرہ ہے کہ کسی وقت بھی اس کے جانور چراگاہ میں داخل ہوجائیں۔ احتیاط اور تقویٰ کی بات یہ ہے کہ کسی گلہ بان کو اپنا ریوڑسرکاری چراگاہ کے قریب نہیں لے جانا چاہیے۔ گویا کہ اللہ تعالیٰ کے حرام و حلال کے ضابطوں کے اندر رہ کر زندگی بسر کرنا ہی تقویٰ ہے۔ اس سے صوفیائے کرام کے اس نظریے کی تردید ہوتی ہے جنھوں نے خدا کی معرفت حاصل کرنے کے لیے اس کی نعمتوں کو ترک کرتے ہوئے نفس کشی کا رویہ اختیار کیا حالانکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے کہ صحت مند مومن کمزور مومن سے بہتر ہے۔ البتہ طبعی کراہت یا پرہیز کی خاطر کسی چیز کو ترک کرنا حرام کے زمرے میں نہیں آتا ہے بشرطیکہ آدمی خدا کی حلال کردہ چیزکو حلال اور اس کے حرام کو حرام سمجھتا ہو۔ اگر کسی کو حقیقی ایمان نصیب ہو تو یہ بات سمجھنے میں کوئی رکاوٹ نہیں کہ اسی میں تقویٰ اور تزکیہ نفس ہے۔ ” حضرت عبداللہ بن دینار (رض) بیان کرتے ہیں انھوں نے عبداللہ بن عمر (رض) کو فرماتے سنا کہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سانڈھے (گوہ) کے متعلق پوچھا گیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میں اس کو کھاتا ہوں نہ اس کو حرام کرتا ہوں۔“ ( عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ (رض) یَقُولُ سَمِعْتُ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یَقُولُ الْحَلَالُ بَیِّنٌ وَالْحَرَامُ بَیِّنٌ وَبَیْنَہُمَا مُشَبَّہَاتٌ لَا یَعْلَمُہَا کَثِیرٌ مِّنَ النَّاسِ فَمَنِ اتَّقَی الْمُشَبَّہَاتِ اسْتَبْرَأَ لِدِینِہٖ وَعِرْضِہٖ) [ رواہ البخاری : کتاب الایمان، باب فضل من استبرألدینہ] ” حضرت نعمان بن بشیر (رض) کہتے ہیں میں نے رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا آپ نے فرمایا حلال واضح ہے اور حرام بھی واضح ہے دونوں کے درمیان متشابہ چیزیں ہیں ان کو لوگوں کی اکثریت نہیں جانتی ہے جو کوئی متشابہ چیزوں سے بچے گا اس نے اپنا دین اور عزت محفوظ کرلی۔“ (عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ (رض) قَالَ قَالَ رَسُول اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)۔۔ قَالَ یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا کُلُوا مِنْ طَیِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاکُمْ ثُمَّ ذَکَرَ الرَّجُلَ یُطِیل السَّفَرَ أَشْعَثَ أَغْبَرَ یَمُدُّ یَدَیْہِ إِلَی السَّمَاءِ یَا رَبِّ یَا رَبِّ وَمَطْعَمُہُ حَرَامٌ وَمَشْرَبُہُ حَرَامٌ وَمَلْبَسُہُ حَرَامٌ وَغُذِیَ بالْحَرَامِ فَأَنّٰی یُسْتَجَابُ لِذٰلِکَ)[ رواہ مسلم : کتاب الزکاۃ، باب قبول الصدقۃ من الکسب الطیب وتربیتھا] ” حضرت ا بو ہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے ایمان والو ! پاکیزہ چیزوں میں سے کھاؤ جو ہم نے تم کو دی ہیں، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا جو لمبے سفر کی وجہ سے پراگندہ بالوں کے ساتھ اپنے ہاتھوں کو آسمان کی طرف پھیلاتا ہے اے میرے رب ! اے میرے رب ! کہتا ہے اس کا کھانا پینا حرام، اس کا لباس بھی حرام اور اس کا سامان بھی حرام مال کا ہے تو اس کی دعا کیسے قبول ہوگی۔“ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں کو حرام نہیں گرداننا چاہیے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ پاکیزہ چیزیں ہی کھانی چاہییں۔ ٤۔ تقویٰ ہی مومنین کو اعتدال و فرمانبرداری کی راہ پر گامزن کرتا ہے۔ تفسیر بالقرآن اللہ تعالیٰ زیادتی کرنے والے کو پسند نہیں کرتا : ١۔ زیادتی کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ پسند نہیں کرتا۔ (البقرۃ: ١٩٠) ٢۔ اللہ ظلم کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (آل عمران : ٥٧) ٣۔ اللہ فساد کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ (المائدۃ: ٦٤) ٤۔ اسراف کرنے والوں کو اللہ پسند نہیں کرتا۔ (الانعام : ١٤١) ٥۔ خیانت کرنے والوں کو اللہ پسند نہیں کرتا۔ (انفال : ٥٨) ٦۔ تکبر کرنے والے کو اللہ پسند نہیں کرتا۔ (النحل : ٢٣)