سورة النسآء - آیت 169

إِلَّا طَرِيقَ جَهَنَّمَ خَالِدِينَ فِيهَا أَبَدًا ۚ وَكَانَ ذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرًا

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

بجز جہنم کی راہ کے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے اور اللہ کے لیے ایسا کرنا بالکل سہل ہے (کوئی نہیں جو اس کے قوانین کے نفاز میں رکاوٹ ڈال سکے)

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

کفار اور مشرکین ہمیشہ جہنم میں رہیں گے : (وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَکَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَآ اُولٰٓءِکَ اَصْحٰبُ النَّارِ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ)[ البقرۃ: ٣٩] ” وہ لوگ جو کفر کرتے ہیں اور ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں وہ آگ والے ہیں اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔“ (اِنَّہٗ مَنْ یُّشْرِکْ باللّٰہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ وَ مَاْوٰاہ النَّارُوَ مَا للظّٰلِمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍ) [ المائدۃ: ٧٢] ” جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے اس کے لیے جنت حرام ہے اور اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہوگا۔“ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر کرنے اور لوگوں کو حق سے روکنے والے گمراہ ہیں۔ ٢۔ ظلم اور کفر کرنے والوں کو اللہ معاف نہیں فرمائے گا۔ ٣۔ کافروں کے لیے جہنم کا دائمی عذاب ہے۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ کے لیے کفار کو عذاب دینا مشکل نہیں۔ تفسیر بالقرآن کفار کے لیے معافی نہیں : ١۔ موت کی تمنا پوری نہ ہوگی۔ (البقرۃ: ٩٤) ٢۔ عذر قبول نہ ہوگا۔ (البقرۃ: ١٢٣) ٣۔ سفارش قبول نہ ہوگی۔ (البقرۃ: ١٢٣) ٤۔ جہنم میں رخصت نہ ہوگی۔ (طہ : ٧٤) ٥۔ جہنم سے نہیں نکل سکیں گے۔ (البقرۃ: ١٦٧) ٦۔ فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ (آل عمران : ٩١) ٧۔ دنیا میں واپس نہیں آسکیں گے۔ (السجدۃ: ١٢)