سورة آل عمران - آیت 105

وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ تَفَرَّقُوا وَاخْتَلَفُوا مِن بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْبَيِّنَاتُ ۚ وَأُولَٰئِكَ لَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جن کے پاس کھلے کھلے دلائل آچکے تھے، اس کے بعد بھی انہوں نے آپس میں پھوٹ ڈال لی اور اختلاف میں پڑگئے، ایسے لوگوں کو سخت سزا ہوگی۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کے احکام کو مضبوطی سے تھامنا اور متحد ہو کر لوگوں تک پہنچانا۔ اختلاف کی صورت میں تبلیغ غیر مؤثر ہوجاتی ہے اس لیے باہمی اختلاف سے منع فرمایا ہے۔ اتحاد و اتفاق اور فریضۂ تبلیغ کی ادائیگی کے ساتھ ایک دفعہ پھر امت کو تاکید کی جارہی ہے کہ ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو آپس میں گروہ بندی کا شکار ہوئے۔ ٹھوس اور واضح دلائل آجانے کے باوجود انہوں نے اپنے دین میں تفرقہ بازی اور اختلافات پیدا کیے۔ اس فرمان میں عام لوگوں اور خاص کر علماء اور مبلّغین کو مخاطب کیا گیا ہے کیونکہ عام مسلمان امت میں محدود انتشار کا باعث ہوتے ہیں لیکن راہنما اور علماء انتشا رکا زیادہ سبب ہوا کرتے ہیں۔ ایسے رہنما، علماء اور عوام کو وارننگ دی جارہی ہے کہ وہ وقت ذہن میں لاؤ کہ جب تمہارے چہروں کی ترو تازگی اور حسن و جمال کو جہنم کی سیاہی اور دنیا کی شہرت کو آخرت کی رسوائی سے بدلتے ہوئے نرم و نازک اجسام کو آگ کے انگاروں میں جھونک دیا جائے گا اور حکم ہوگا کہ اب ہمیشہ کے لیے جہنم کا عذاب چکھتے رہو۔ اے دنیاکی جاہ وعزت‘ شہرت اور دولت کی خاطر دین اور امت میں انتشار پیدا کر کے گل چھڑے اڑانے والو‘ اب تمہیں جہنم میں رہنا اور عذاب عظیم برداشت کرنا ہوگا۔ (عَنْ صُہَیْبٍ (رض) عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ اِذَا دَخَلَ اَہْلُ الْجَنَّۃِ الْجَنَّۃَ یَقُوْلُ اللّٰہُ تَعَالٰی تُرِیْدُوْنَ شَیْءًا اَزِیْدُکُمْ فَیَقُوْلُوْنَ اَلَمْ تُبَیِّضْ وُجُوْہَنَا اَلَمْ تُدْخِلْنَا الْجَنَّۃَ وَ تُنَجِّنَا مِنَ النَّارِ قَالَ فَیَکْشِفُ الْحِجَابَ فَمَا اُعْطُوْا شَیْءًا اَحَبَّ اِلَیْہِمْ مِنَ النَّظَرِ اِلٰی رَبِّہِمْ عَزَّوَجَلَّ ثُمَّ تَلَا ھٰذِہِ الْآیَۃَ (لِلَّذِیْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰی وَزِیَادَۃٌ) [ رواہ مسلم : کتاب الإیمان، باب إثبات رؤیۃ المؤمنین فی الآخرۃ ربھم سبحانہ] ” حضرت صہیب (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی گرامی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب جنتی جنت میں داخل ہوجائیں گے تب اللہ تعالیٰ فرمائیں گے کیا تم مزید کسی نعمت کو چاہتے ہو کہ میں تمہیں عطا کروں؟ وہ عرض کریں گے اے اللہ! کیا آپ نے ہمارے چہروں کو روشن نہیں فرمایا؟ آپ نے ہمیں جنت میں داخل نہیں کیا؟ اور آپ نے ہمیں دوزخ سے نہیں بچایا؟ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تب اللہ تعالیٰ اپنے چہرہ نور سے پردہ اٹھائیں گے۔ انہیں ایسی کوئی نعمت عطا نہیں ہوئی ہوگی جو پروردگار کے دیدار سے انہیں زیادہ محبوب ہو۔ اس کے بعد آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ آیت تلاوت فرمائی ” جن لوگوں نے اچھے عمل کیے ان کے لیے جنت ہے اور مزید بھی۔“ مسائل ١۔ آپس میں اختلاف کرنا عذاب الیم کو دعوت دینا ہے۔ ٢۔ قیامت کے دن ایمانداروں کے چہرے روشن اور کفار کے منہ کالے ہوں گے۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ لوگوں پر ظلم نہیں کرتا۔ ٤۔ زمین و آسمان کی ہر چیز اللہ کی ملکیت ہے۔ ٥۔ اللہ ہی کے پاس ہر کام کا انجام اور اختیار ہے۔ تفسیر بالقرآن جنتیوں اور جہنمیوں کے چہروں میں فرق : ١۔ کفار کے چہرے بگڑے ہوئے ہوں گے۔ (الحج : ٧٣) ٢۔ مومنوں کے چہرے تروتازہ ہوں گے۔ (القیامۃ: ٢٢) ٣۔ کفار کے چہرے مرجھائے اور اڑے ہوئے ہوں گے۔ (القیامۃ: ٢٤) ٤۔ مومنوں کے چہرے خوش وخرم ہوں گے۔ (العبس : ٣٨) ٥۔ کفارکے چہروں پر گردوغبار ہوگا۔ (العبس : ٤٠) ٦۔ مجرموں کے چہرے ڈرے اوراُوندھے ہوں گے۔ (الغاشیۃ: ٢) ٧۔ مومنوں کے چہرے تروتازہ ہوں گے۔ (الغاشیۃ: ٨)