سورة العنكبوت - آیت 26

فَآمَنَ لَهُ لُوطٌ ۘ وَقَالَ إِنِّي مُهَاجِرٌ إِلَىٰ رَبِّي ۖ إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اس پر لوط نے ابراہیم کی تصڈیق کی اور ابراہیم نے کہا میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرتاہوں بے شک وہ زبردست اور کامل حکمت والا ہے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی پرخلوص اور طویل جدوجہد کے باوجود حضرت لوط (علیہ السلام) ابراہیم (علیہ السلام) پر ایمان لائے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حکومت وقت اور ان کی قوم نے آگ میں پھینکا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ابراہیم (علیہ السلام) کو بسلامت آگ سے نکال لیا۔ چاہیے تو یہ تھا کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی عظمت اور بزرگی دیکھ کر قوم بالاتفاق ان پر ایمان لے آتی لیکن حکومت کے رعب اور ذاتی مفادات کی خاطر کوئی شخص حضرت پر ایمان نہ لایا۔ صرف آپ کے بھتیجے حضرت لوط (علیہ السلام) ایمان لائے۔ جن کے بارے میں مفسرین نے وضاحت فرمائی ہے کہ لوط (علیہ السلام) کے ایمان لانے کا یہ معنی نہیں کہ وہ پہلے مشرک یا مشرکوں کے حمایتی تھے۔ ایسا ہرگز نہیں تھا کیونکہ جس شخصیت کو اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول بنانا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے ابتداہی سے شرک و رسومات سے محفوظ رکھتا ہے۔ حضرت لوط (علیہ السلام) کے ایمان لانے سے مراد ان کا اپنے ایمان کا اعلان کرنا ہے۔ عین ممکن ہے کہ لوط (علیہ السلام) ایمان پہلے لا چکے ہوں لیکن اس موقعہ پر انھوں نے اپنے ایمان کا برملا اعلان کیا ہو۔ یہی جوان ہے جس نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی حمایت اور ایمان کی خاطر اپنا گھر اور عزیز و اقرباء کو چھوڑا تھا اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) حضرت سارہ کے ساتھ ہجرت کی تھی۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے عراق کی سرزمین چھوڑتے ہوئے فرمایا کہ میں اپنے رب کے لیے سب کچھ چھوڑ رہا ہوں۔ میرا رب بڑا غالب اور حکمت والا ہے۔ یعنی اگر میری دعوت یہاں نہیں پھیلی تو اس میں بھی میرے رب کی حکمت پنہاں ہے تاہم مجھے یقین ہے کہ دنیا میں میری دعوت پھیل کر رہے گی کیوں کہ میرا رب غالب اور حکمت والا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے ارشاد سے یہ بھی ثابت ہوا کہ انسان کو ہجرت بھی اپنے رب کی رضا کے لیے کرنی ہے۔ اسی لیے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد ہے : (عَنْ عُمَرَ ابْنِ الْخَطَّابِ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اِنَّمَا الْاَعْمَال بالنِّیَّاتِ وَاِنَّمَا لِاِمْرِئٍ مَّا نَوٰی فَمَنْ کَانَتْ ھِجْرَتُہُ الی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ فَہِجْرَتُہُ اِلَی اللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ وَمَنْ کَانَتْ ھِجْرَتُہُ اِلَی دُنْےَا ےُصِےْبُھَا اَوِامْرَاَۃٍ ےَتَزَوَّجُھَا فَہِجْرَتُہٗ اِلٰی مَا ھَاجَرَ اِلَےْہِ) [ رواہ البخاری : باب بدء الوحی] ” حضرت عمر بن خطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمام اعمال کا انحصار نیتوں پر ہے۔ آدمی اپنی نیت کے مطابق ہی صلہ پائے گا۔ جس نے اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہجرت کی اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے جس نے دنیا کے فائدے یا کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے ہجرت کی اس کی ہجرت اسی کے لیے ہوگی۔“