سورة القصص - آیت 22

وَلَمَّا تَوَجَّهَ تِلْقَاءَ مَدْيَنَ قَالَ عَسَىٰ رَبِّي أَن يَهْدِيَنِي سَوَاءَ السَّبِيلِ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

جب موسیٰ مصر سے نکل کر مدین کی طرف روانہ ہوئے تو کہا کہ خدا مجھے ضرور سیدھا راستہ دکھائے گا

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ملک مدین کی طرف ہجرت اور راستے کی رہنمائی کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرنا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مصر میں پیدائش پائی اور ان کی تربیت بھی مصر شہر میں ہوئی تھی۔ ملک مصر سے باہر موسیٰ (علیہ السلام) کا یہ پہلا سفر تھا وہ بھی انتہائی غم اور پریشانی کے عالم میں اچانک پیش آیا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نہیں جانتے تھے کہ مدین کی طرف کون سا راستہ جاتا ہے۔ معلوم نہیں کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ارادۃً مدین کا سفر اختیار کیا یا اللہ تعالیٰ نے انھیں القاء فرمایا کیونکہ ابھی تک موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت عطا نہیں کی گئی تھی۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مدین مصر کے قریب تر ہو۔ بہر حال یہ حقیقت اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ مدین مصر میں شامل نہ تھا۔ جس وجہ سے فرعون کی وہاں تک رسائی نہ تھی۔ اِ ن وجوہات کے پیش نظر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے مدین کی طرف رخ کیا اور راستے میں مسلسل دعا کرتے رہے کہ میرے رب ! مجھے صحیح راستے کی رہنمائی فرما۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) مدین کے قریب پہنچے تو انھوں نے ایک گروہ کو اپنی بھیڑ بکریوں کو کنویں سے پانی پلاتے ہوئے پایا۔ جب وہ کنویں کے قریب پہنچے تو دیکھا کہ دونو جوان لڑکیاں پانی کے انتظار میں کنویں سے ذراہٹ کر کھڑی ہوئی ہیں۔ لوگ ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر اپنے جانوروں کو پانی پلائے جا رہے ہیں۔ کسی نے خیال نہ کیا کہ ہم بچیوں کو جانوروں کو پانی پلانے کا موقع دیں۔ اس سے مدین کے معاشرے کی اخلاقی گراوٹ کا پتہ چلتا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے یہ صورتحال دیکھی تو بے قرار ہو کر لڑکیوں کی طرف