سورة القصص - آیت 8

فَالْتَقَطَهُ آلُ فِرْعَوْنَ لِيَكُونَ لَهُمْ عَدُوًّا وَحَزَنًا ۗ إِنَّ فِرْعَوْنَ وَهَامَانَ وَجُنُودَهُمَا كَانُوا خَاطِئِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

پھر آل فرعون نے اسے دریا سے نکال لیاتاکہ آگے چل کر ان کا دشمن اور سرمایہ رنج وغم بنے بے شک فرعون ہامان اور ان کالشکر غلطی پر تھا (جب کہ دشمن کو اپنے گھر کے اندر پال رہا تھا)

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کا موسیٰ (علیہ السلام) کو دریا برد کرنا اور صندوق کا فرعون کے ہاتھ لگنا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کو الہام کے ذریعے موسیٰ (علیہ السلام) کو دریا برد کرنے کا حکم دیتے ہوئے یقین دلایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی جان کے بارے میں ڈرنے اور خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ اے اُمِّ موسیٰ ! تیرے ساتھ تیرے رب کا وعدہ ہے کہ نہ صرف موسیٰ (علیہ السلام) کو تیرے پاس لوٹائے گا بلکہ اسے رسول منتخب کرے گا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے اپنے رب کے حکم پر موسیٰ (علیہ السلام) کو صندوق میں ڈال کر دریا کی لہروں کے حوالے کیا اور اپنی بیٹی یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن کو ہدایت کی کہ وہ دریا کے کنارے پوری احتیاط کے ساتھ صندوق کے ساتھ ساتھ چلے اور دیکھنے البتہ چلنے کا انداز ایسا ہو کہ آل فرعون محسوس نہ کر پائیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بہن اسی احتیاط اور سمجھداری کے ساتھ دریا کے کنارے چلتی رہی تآنکہ فرعون کے ملازموں نے محل کے قریب دریا میں تیرتے ہوئے صندوق کو پکڑکر فرعون کے سامنے پیش کیا۔ اس طرح جس کی دشمنی وجہ سے فرعون نے ہزاروں بچے قتل کروائے تھے اللہ تعالیٰ نے اس کے دشمن کو اسی کے اہلکاروں کے ہاتھوں اس کے گھر پہنچایا۔ تاکہ موسیٰ (علیہ السلام) اس کے گھر پرورش پا کر جوان ہوا اور اللہ تعالیٰ نے انھیں نبوت عطا فرمائے۔ اس کی وجہ سے فرعون، ہامان اور اس کے لشکر کیفر کردار تک پہنچیں کیونکہ وہ بڑے ظالم اور خطا کار تھے۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) کا صندوق کھولا گیا تو فرعون کی بیوی نے موسیٰ کا معصوم اور پھول جیسا چہرہ دیکھا اس نے فرعون کو کہا اسے قتل نہ کیا جائے۔ درخواست کے انداز میں کہا کہ ہوسکتا ہے یہ بچہ ہمیں بہت ہی فائدہ پہنچائے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ یہ ہمارے لیے مفید ثابت ہو۔ ہم اسے اپنا بیٹا بنا لیں۔ فرعون نے قتل کرنے سے ہاتھ روک لیا جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ وہ موسیٰ (علیہ السلام) کے ہاتھوں ہونے والے اپنے انجام کو نہیں سمجھتے تھے۔ موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ نے اللہ تعالیٰ کے الہامی حکم کی بناء پر موسیٰ (علیہ السلام) کو دریا کے حوالے کیا لیکن رات کے بعد جب صبح ہوئی تو اس کے دل میں یہ خوف پیدا ہوا کہ میرا لخت جگر دشمن کے ہاتھ لگ چکا ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ اسے قتل کر ڈالے۔ ماں کی مامتا تڑپ اٹھی قریب تھا موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ معصوم بیٹے کے فراق میں حوصلہ ہار بیٹھتی اور انتہائی غم کی حالت میں اڑوس پڑوس میں موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر کر بیٹھتی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کے دل کو مضبوط کیا اور حوصلہ بخشا تاکہ اللہ تعالیٰ کے وعدے پر اس کا ایمان پکا رہ سکے۔ دریا میں اٹکیلیاں کھاتا ہوا صندوق دیکھ کر فرعون کے خدام نے اسے پکڑلیا صندوق کھولا گیا تو اس میں موسیٰ (علیہ السلام) کو معصوم اور پر نور چہرے کے ساتھ مسکراتا ہوا پایا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر اپنی رحمت کا پرتو اس طرح ڈال رکھا تھا کہ جو بھی انھیں دیکھتا فریفتہ ہوجاتا۔ یہی حالت فرعون اور اس کی بیوی آسیہ کی تھی جو نہی فرعون نے موسیٰ (علیہ السلام) کے چہرے پر نظر ڈالی تو دل ہار بیٹھا اسے یہ احساس اور خیال تک نہ رہا کہ اس طرح دریا میں تیرتے ہوئے جس بچے کو میں نے پکڑا ہے ہوسکتا ہے کہ یہ وہی ہو جس کی خاطر میں نے ہزاروں معصوم بچوں کا قتل کیا ہے۔ فرعون ایسا کیوں نہ سوچ سکا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اے موسیٰ میں نے تجھ پر اپنی محبت ڈال دی تاکہ تو میری آنکھوں کے سامنے پرورش پائے۔ (وَأَلْقَیْتُ عَلَیْکَ مَحَبَّۃً مِنِّی وَلِتُصْنَعَ عَلَی عَیْنِی) [ طٰہٰ: ٣٩] ” اے موسیٰ میں نے تجھ پر اپنی محبت طاری کردی اور ایسا انتظام کیا تاکہ تو میری نگرانی میں پرورش پائے۔“ مسائل ١۔ فرعون، ہامان اور ان کے ساتھی جس بچے سے ڈرتے تھے اللہ تعالیٰ نے اس بچے کو فرعون کے گھر پہنچا دیا۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی عظیم قدرت سے موسیٰ (علیہ السلام) کی پرورش اس کے دشمن کے ہاتھوں کروائی۔ ٣۔ جادو اور علم نجوم کا دعویٰ رکھنے والے یہ نہ جان سکے کہ ہم اپنے دشمن کی پرورش کر رہے ہیں۔ ٤۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کی والدہ کے دل کو مضبوط کیا اور وہ اللہ تعالیٰ کے وعدہ پر قائم رہی۔ تفسیربالقرآن اللہ تعالیٰ ہی دلوں کو تسکین دینے والا ہے : ١۔ اللہ نے تمہارے گھر تمہارے لیے سکون کا باعث بنائے ہیں۔ (النحل : ٨٠) ٢۔ اللہ وہ ذات ہے جس نے تمہارے لیے رات کو بنایا تاکہ تم سکون حاصل کرو۔ (یونس : ٦٧) ٣۔ اللہ کی رحمت کا نتیجہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے دن اور رات بنائے تاکہ تم تسکین حاصل کرو۔ (القصص : ٨٢) ٤۔ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ ہے کہ اس نے تمہاری جانوں میں سے تمہارے لیے بیویاں پیدا فرمائیں تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو۔ (الروم : ٢١) ٥۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے لیے دعا کیجئے آپ کی دعا ان کے لیے باعث تسکین ہے۔ (التوبۃ: ١٠٣) ٦۔ اللہ کے ذکر سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے۔ (الرعد : ٢٨)