سورة النور - آیت 60

وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاءِ اللَّاتِي لَا يَرْجُونَ نِكَاحًا فَلَيْسَ عَلَيْهِنَّ جُنَاحٌ أَن يَضَعْنَ ثِيَابَهُنَّ غَيْرَ مُتَبَرِّجَاتٍ بِزِينَةٍ ۖ وَأَن يَسْتَعْفِفْنَ خَيْرٌ لَّهُنَّ ۗ وَاللَّهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور بوڑھی عورتیں جنہیں نکاح کی اب امید نہیں رہی، اگر اپنے (اوپر کے) کپڑے (یعنی ادروغیرہ) اتاردیں تو اس میں کوئی گناہ کی بات نہیں، بشرطیکہ اپنے بناؤ، چناؤ کا دکھاوامنظور نہ ہو۔ اور اگر اس سے بھی احتیاط رکھیں تو یہ ان کے لیے زیادہ بہتر بات ہوگی اور اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا جاننے والا ہے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل ایم اے

فہم القرآن: ربط کلام : پردہ کے مسائل: کا بیان جاری ہے۔ جو عورتیں عمر کے اس حصہ میں پہنچ چکی ہیں کہ جہاں پہنچ کر ان کے نسوائی جذبات ختم ہوچکے ہیں اور اب انہیں نکاح کی حاجت نہیں رہی۔ اگر وہ اپناسر ننگا کرلیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں بشرطیکہ ان کا مقصد اپنی زیب وزینت ظاہر کرنا نہ ہوہاں بہتر یہ ہے کہ وہ بھی اپنے سروں پر کپڑا رکھاکریں۔ اللہ تعالیٰ ہر بات سننے اور جاننے والا ہے۔ زینت سے مراد گلے میں پہننے والا زیور، عورت کی چھاتی سر کے بال اور چہرہ ہے معمر عورت کا ان چیزوں کو ڈھانپنا اس لیے بھی بہتر ہے تاکہ اس کی بہو، بیٹیوں اور دوسری بچیوں پر اس کی سیرت وکردار کے اچھے نقوش مرتب ہو سکیں۔ اگر ایک بوڑھی عورت اپنی عمر کے برخلاف زیب و زینت اور جوانی جیسا لباس اختیار کرتی ہے تو ظاہر بات ہے کہ ناصرف اس کے احترام میں فرق واقع ہوگا بلکہ بہو، بیٹیوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس لیے فرمایا ہے کہ بہت بہتر ہے کہ بوڑھی عورتیں بھی اپنی زینت غیر محرموں کے سامنے نمایاں کرنے سے گریز کریں۔ مسائل: 1۔ بوڑھی عورت کسی وجہ سے غیر محرم کے سامنے سر سے دوپٹہ اتار دے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ 2۔ بوڑھی عورت کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ اپنی زیب وزینت کو ظاہر نہ کرے۔