سورة النور - آیت 23

إِنَّ الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ لُعِنُوا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

جو لوگ پاک دامن عورتوں پر، کہ ایسی باتوں سے محض بے خبر ہیں اور اللہ پر ایمان رکھتی ہیں، تہمت لگاتے ہیں تو (یاد رکھو) ایسے لوگوں پر دنیا اور آخرت دونوں میں پھٹکار پڑی ور انہیں ایک بڑے ہی سخت عذاب سے دوچار ہونا ہے۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : پاکدامن عورتوں پر تہمت لگانے والوں کے لیے دنیا اور آخرت میں سزا۔ سابقہ آیات میں حضرت عائشہ (رض) کے حوالہ سے مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے بارے میں اچھا گمان کرتے ہوئے تہمت طرازی سے بچا کریں۔ اب تمام پاکدامن مومن عورتوں کے بارے میں اصول بیان کیا گیا ہے کہ جس نے پاکدامن، بے خبر بھولی بھالی مسلمان خواتین پر تہمت لگائی ان پر اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت میں لعنت کریں گے اور ان کے لیے عظیم تر عذاب ہوگا۔ ممکن ہے کہ دنیا میں یہ لوگ اپنی چرب لسانی یا کسی وجہ سے سزا سے بچ جائیں لیکن انہیں وہ دن یاد رکھنا چاہیے جس دن ان کی زبانیں ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے کردارکے بارے میں گواہی دیں گے۔ جس کے بارے میں دوسرے مقام پر یوں بیان کیا ہے کہ اس دن اللہ تعالیٰ ان کے مونہوں پر مہر ثبت کریں گے اور پھر ان کے ہاتھ اور پاؤں ان کے خلاف شہادت دیں گے۔ ( یٰس : ٦٥) ایک اور مقام پر یوں بیان فرمایا ہے کہ جب مجرموں کے کان، آنکھیں اور پورا جسم ان کے خلاف گواہی دے گا تو وہ اپنے وجود سے مخاطب ہو کر کہیں گے کہ آج تمہیں ہمارے خلاف بولنے کی کس نے طاقت دی ہے۔ مجرم کے تمام اعضا پکار اٹھیں گے کہ ہمیں اس اللہ نے بولنے کی طاقت دی ہے جس نے ہر چیز کو بولنے کی استعداد بخشی ہے (حٰم السجدہ : آیت ٢٠، ٢١) اس ارشاد سے یہ سمجھانا مقصود ہے کہ انسان کو اپنی زبان، ہاتھ اور پاؤں کو شریعت کے تابع کردینا چاہیے۔ سروردوعالم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مسلمان کی اس طرح تعریف فرمائی ہے (عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَمْرٍو (رض) عَنِ النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قَالَ الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِہِ وَیَدِہِ، وَالْمُہَاجِرُ مَنْ ہَجَرَ مَا نَہَی اللَّہُ عَنْہُ) [ رواہ البخاری : باب الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِہِ وَیَدِہِ ] ” حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بیان کرتے ہیں آپ نے فرمایا مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ مہاجر وہ ہے جس نے اللہ کی منع کی ہوئی چیزوں کو چھوڑ دیا۔“ (عَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃ (رض) قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اِجْتَنِبُوا السَّبْعَ الْمُوْبِقَاتِ قَالُوْا ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ وَمَاھُنَّ قَالَ اَلشِّرْکُ باللّٰہِ وَالسِّحْرُ وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلَّا بالْحَقِّ وَاَکْلُ الرِّبٰو وَاَکْلُ مَالِ الْےَتِےْمِ وَالتَّوَلِّی ےَوْمَ الزَّحْفِ وَقَذْفُ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ الْغَافِلَاتِ) [ رواہ البخاری : باب قَوْلِ اللَّہِ تَعَالَی (إِنَّ الَّذِینَ یَأْکُلُونَ أَمْوَالَ الْیَتَامَی ظُلْمًا إِنَّمَا یَأْکُلُونَ فِی بُطُونِہِمْ نَارًا وَسَیَصْلَوْنَ سَعِیرًا ] ” حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں رسول محترم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سات ہلاک کردینے والے گناہوں سے بچتے رہو۔ آپ سے پوچھا گیا اللہ کے رسول وہ کون سے ہیں؟ فرمایا (١) اللہ کے ساتھ شرک کرنا‘ (٢) جادو کرنا (٣) ایسے شخص کو قتل کرنا جسے اللہ نے قتل کرنا حرام قرار دیا ہے مگر حق کے ساتھ سود۔ یتیم کا مال کھانا، میدان جنگ سے فرار ہونا اور پاک دامن ایمان دار بھولی بھالی عورتوں پر تہمت لگانا۔“ مسائل ١۔ پاک دامن عورتوں پر الزام لگانے والے دنیا و آخرت میں لعنت کے مستحق ہیں۔ قیامت کے دن انہیں بڑے عذاب کا سامنا کرنا ہوگا۔ ٢۔ قیامت کے دن مجرموں کے ہاتھ پاؤں اور زبانیں ان کے خلاف گواہی دیں گی۔ ٣۔ قیامت کے دن ہر کسی کو اس کے کیے کا پورا، پورا بدلہ دیا جائے گا۔ ٤۔ قیامت کے دن سبھی کو بالخصوص مجرموں کو پتہ چل جائے گا کہ اللہ کی ذات اور اس کا فرمان حق ہے۔ تفسیر بالقرآن انسان کے اعضاء اللہ تعالیٰ کے سامنے گواہی دیں گے ١۔ قیامت کے دن کان، آنکھ اور دل سے سوال کیا جائے گا۔ (بنی اسرائیل : ٣٦) ٢۔ قیامت کے دن مجرموں کے خلاف ان کے کان، آنکھیں اور جسم گواہی دیں گے۔ (حٰم السجدۃ: ٢٠) ٣۔ مجرموں کے ہاتھ اور پاؤں گواہی دیں گے۔ (یٰس : ٦٥)