سورة طه - آیت 134

وَلَوْ أَنَّا أَهْلَكْنَاهُم بِعَذَابٍ مِّن قَبْلِهِ لَقَالُوا رَبَّنَا لَوْلَا أَرْسَلْتَ إِلَيْنَا رَسُولًا فَنَتَّبِعَ آيَاتِكَ مِن قَبْلِ أَن نَّذِلَّ وَنَخْزَىٰ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور اگر ہما نہیں اس سے پہلے (یعنی نزول قرآن سے پہلے) عذاب نازل کر کے ہلاک کر ڈالتے تو یہ ضرور کہتے خدایا ! اس سے پہلے کہ ہم ظہور عذاب سے ذلیل و رسوا ہوں تو نے ایک پیغمبر کیوں نہ بھیج دیا کہ ہم تیری آیتوں پر چلتے اور ہلاک نہ ہوتے؟

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کی ضرورت اور اس کی دلیل۔ اللہ تعالیٰ نے از راہ کرم یہ ضابطہ اپنے لیے طے کر رکھا ہے کہ اس وقت تک لوگوں کو ہلاک نہ کیا جائے جب تک ان پر اتمام حجّت نہ ہوجائے۔ اسی لیے انبیاء (علیہ السلام) کو مبعوث کیا گیا اور یہی نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آخری نبی کے طور پر مبعوث کرنے کا مقصد ہے تاکہ اہل کتاب اور قیامت تک کے لیے پیدا ہونے والے لوگوں پر حجت قائم ہوجائے۔ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو لوگ بہانہ بناتے اور کہتے کہ اے رب ہمارے پاس کوئی سمجھانے والا آتا تو ہم اس کی بات مان کر اس ذلّت اور عذاب سے بچ جاتے۔ کیونکہ اب نبی آخرالزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مبعوث ہوچکے ہیں۔ لہٰذا نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت اور دعوت کو ماننا تمام لوگوں کا فرض ہے۔ اگر آپ کی بے پناہ کوشش کے باوجود لوگ حق بات کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ تو نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ارشاد ہوا کہ آپ ان لوگوں پر مزید وقت صرف کرنے کی بجائے صرف یہ ارشاد فرمائیں کہ حق کا انکار کرنے والو! مجھ سے مزید الجھنے کی بجائے آخری فیصلے کا انتظار کرو۔ میں بھی اللہ تعالیٰ کے فیصلہ کا انتظار کرتا ہوں۔ عنقریب تمھیں معلوم ہوجائے گا کہ کون صراط مستقیم اور ہدایت پر ہے۔ (مَنِ اھْتَدٰی فَاِنَّمَا یَھْتَدِیْ لِنَفْسِہٖ وَ مَنْ ضَلَّ فَاِنَّمَا یَضِلُّ عَلَیْھَاوَ لَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی وَ مَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلًا)[ بنی اسرائیل : ١٥] ” جس نے ہدایت پائی اس نے اپنے ہی لیے ہدایت پائی اور جو گمراہ ہوا اس کا وبال اسی پر ہے اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا اور ہم پیغام پہنچانے سے پہلے کسی کو عذاب نہیں دیتے۔“ مسائل ١۔ اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو آخری نبی کے طور پر اس لیے مبعوث فرمایا تاکہ لوگوں پر حجّت تمام ہوجائے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ لوگوں پر حجّت قائم کیے بغیر عذاب نہیں کرتا۔ ٣۔ دنیا کی ذلّت اور آخرت کے عذاب سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ لوگ نبی آخر الزمان کی اتباع کریں۔ ٤۔ منکرین حق کے ساتھ ہر وقت بحث و تقرار کرنے کی بجائے معاملہ اللہ تعالیٰ کے حوالے کردینا چاہیے۔ تفسیر بالقرآن داعی کو کفار کے ساتھ کیا رویہّ اختیار کرنا چاہیے : ١۔ داعی اور قائد کو ہمدرد ہونا چاہیے۔ (التوبۃ: ١٢٨) ٢۔ اللہ کے دین کی طرف لوگوں کو حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلانا چاہیے۔ (النحل : ١٢٥) ٣۔ فرما دیجیے یہ میرا راستہ ہے میں اس کی طرف بصیرت کے ساتھ بلاتاہوں۔ (یوسف : ١٠٨) ٤۔ انہیں آپ کے ساتھ جھگڑا نہیں کرنا چاہیے کیونکہ آپ ان کو اپنے پروردگار کی طرف بلاتے ہیں۔ (الحج : ٦٧) ٥۔ جب اللہ کے احکام آپ پر نازل ہوں تو آپ ان کی طرف لوگوں کو بلائیں۔ (القصص : ٨٧) ٦۔ آپ انہیں دین حق کی طرف بلائیں اور اللہ کے حکم پر قائم رہیں۔ (الشوریٰ : ١٥) ٧۔ برائی کا بدلہ اچھائی سے دینا چاہیے۔ ( حٰم السجدۃ: ٣٤)