سورة النحل - آیت 30

وَقِيلَ لِلَّذِينَ اتَّقَوْا مَاذَا أَنزَلَ رَبُّكُمْ ۚ قَالُوا خَيْرًا ۗ لِّلَّذِينَ أَحْسَنُوا فِي هَٰذِهِ الدُّنْيَا حَسَنَةٌ ۚ وَلَدَارُ الْآخِرَةِ خَيْرٌ ۚ وَلَنِعْمَ دَارُ الْمُتَّقِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اور (جب) متقیوں سے پوچھا گیا وہ کیا بات ہے جو تمہارے پروردگار نے نازل کی ہے؟ تو انہوں نے کہا، سرتاسر خیر و برکت کی بات سو (دیکھو) جن لوگوں نے اس دنیا میں اچھائی کی ان کے لیے اچھائی ہی ہے اور یقینا (ان کے لیے) آخرت کا گھر بھی خیر و برکت ہی کا گھر ہے۔ پس متقیوں کا ٹھکانا کیا ہی اچھا ٹھکانا ہوا۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : کفار، مشرکین اور مجرموں کے انجام کے بعد متقی حضرات کا صلہ اور ان کے انجام اور انعام کا بیان۔ اس خطاب کا آغاز اس بات سے ہوا تھا کہ لوگو! تمہارا الٰہ صرف ایک ہی الٰہ ہے۔ جس کے ردِّ عمل میں کافر اور مشرک یہ کہتے ہیں یہ تو پہلے لوگوں کے قصے کہانیاں ہیں۔ ان کے مقابلے میں جو لوگ کفر و شرک سے تائب ہوئے اور اللہ کی توحید کا اقرار کیا ان کا رد عمل یہ ہوتا ہے کہ جب ان سے پوچھا جائے کہ تمہارے رب نے تمہاری ہدایت کے لیے کیا نازل فرمایا ہے وہ بلا تاخیر کہتے ہیں کہ ہمارے رب نے جو کچھ نازل کیا ہے اس میں ہماری بھلائی اور رہنمائی ہے۔ ان کے لیے دنیا میں بھی بہتری ہے اور آخرت میں ان کے لیے خیر ہی خیر ہی ہوگی متقی حضرات کے لیے کتنا ہی اچھا گھر تیار کیا گیا ہے۔ جس میں یہ داخل کیے جائیں گے اس کے نیچے نہریں جاری ہوں گی جو کچھ چاہیں گے اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں عنایت ہوگا۔ اس طرح متقی حضرات کو بہترین جزا دی جائے گی۔ (عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ (رض) قَالَ خَرَجْنَا مَعَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) إِلٰی جِنَازَۃٍ فَجَلَسَ رَسُول اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عَلَی الْقَبْرِ وَجَلَسْنَا حَوْلَہٗ کَأَنَّ عَلٰی رُءُ وسِنَا الطَّیْرَ وَہُوَ یُلْحَدُ لَہٗ فَقَالَ أَعُوْذُ باللَّہِ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ثَلاَثَ مِرَارٍ ثُمَّ قَالَ إِنَّ الْمُؤْمِنَ إِذَا کَانَ فِیْٓ إِقْبَالٍ مِنَ الآخِرَۃِ وَانْقِطَاعٍ مِنَ الدُّنْیَا تَنَزَّلَتْ إِلَیْہِ الْمَلاَءِکَۃُ کَأَنَّ عَلٰی وُجُوہِہِمُ الشَّمْسَ مَعَ کُلِّ وَاحِدٍ مِّنْہُمْ کَفَنٌ وَحَنُوْطٌ فَجَلَسُوْا مِنْہُ مَدَّ الْبَصَرِ حَتّٰی إِذَا خَرَجَ رُوحُہٗ صَلّٰی عَلَیْہِ کُلُّ مَلَکٍ بَیْنَ السَّمَآءِ وَالأَرْضِ وَکُلُّ مَلَکٍ فِی السَّمَآءِ) [ رواہ أحمد ] ” حضرت براء بن عازب (رض) بیان کرتے ہیں ہم رسول اللہ کے ساتھ ایک جنازہ کے لیے نکلے آپ ایک قبرکے قریب بیٹھ گئے اور ہم آپ کے اردگرد اس طرح بیٹھے۔ گویا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں۔ میت کے لیے لحد بنائی جارہی تھی۔ آپ نے فرمایا میں قبر کے عذاب سے پناہ چاہتاہوں۔ پھر آپ نے فرمایا جب مومن کا دنیا سے رخصت ہونے اور موت کا وقت آتا ہے تو آسمان سے خوبصورت چہروں والے فرشتے نازل ہوتے ہیں ہر ایک کے پاس کفن اور خوشبو ہوتی ہے۔ فرشتے فوت ہونے والے مومن سے حد نگاہ تک اس سے دور بیٹھ جاتے ہیں۔ جب اس کی روح نکل جاتی ہے تو زمین و آسمان کے درمیان تمام فرشتے اس کے لیے دعا کرتے ہیں۔“ مسائل ١۔ قرآن مجید کو متقین اپنے لیے رہنمائی اور خیر ہی خیر سمجھتے ہیں۔ ٢۔ نیکی کرنے والوں کے لیے دنیا میں بھی بھلائی ہے۔ ٣۔ نیکو کاروں کے لیے آخرت کا گھر بہتر ہے۔ ٤۔ متقین کو ہمیشہ رہنے والے باغات میں داخل کیا جائے گا۔ ٥۔ جنت میں وہ کچھ ملے گا جو جنتی خواہش کریں گے۔ ٦۔ اللہ تعالیٰ متقین کو بہترین صلہ عطا فرمائے گا۔ تفسیر بالقرآن متقین کا دنیا اور آخرت میں صلہ : ١۔ اللہ تعالیٰ متقین کے ساتھ ہے۔ (النحل : ١٢٨) ٢۔ متقین امن و سلامتی والے گھر میں ہوں گے۔ (الدخان : ٥١) ٣۔ متقین کے لیے دنیا میں بھی بھلائی ہے اور آخرت ان کے لیے زیادہ بہتر ہے۔ (النحل : ٣٠) ٤۔ اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے جنت ہے جس کے نیچے نہریں جاری ہیں۔ (آل عمران : ١٩٨) ٥۔ اللہ تعالیٰ متقین کو قیامت کے دن گروہ در گروہ جنت میں داخل کرے گا۔ (الزمر : ٧٣) ٦۔ ایمان لانے اور تقویٰ اختیار کرنے والوں کے لیے دنیا اور آخرت میں خوشخبری ہے۔ (یونس : ٦٣۔ ٦٤)