سورة البقرة - آیت 173

إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ الْمَيْتَةَ وَالدَّمَ وَلَحْمَ الْخِنزِيرِ وَمَا أُهِلَّ بِهِ لِغَيْرِ اللَّهِ ۖ فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

اللہ نے جو چیزیں تم پر حرام کردی ہیں وہ تو صرف یہ ہیں کہ مردار جانور، حیوانات کا خون، سور کا گوشت، اور وہ (جانور) جو اللہ کے سوا کسی دوسری ہستی کے نام پر پکارے جائیں۔ البتہ اگر ایسی حالت پیش آجائے کہ ایک آدمی (حلال غذا نہ مل سکنے کی وجہ سے) بہ حالت مجبور کھا لے اور یہ بات نہ ہو کہ حکم شریعت کی پابندی سے نکل جانا چاہتا ہو یا اتنی مقدار سے زیادہ کھانا چاہتا ہو جتنے کی (زندگی بچانے کے لیے) ضرورت ہے تو اس صورت میں مجبور آدمی کے لیے کوئی گناہ نہ ہوگا۔ بلاشبہ اللہ (خطاؤں لغزشوں کو) بخش دینے والا اور (ہر حال میں) تمہارے لیے رحمت رکھنے والا ہے

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح حلال کھانا لازم ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کو حرام سمجھنا اور ان سے پوری طرح اجتناب کرنا بھی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جن چیزوں کے کھانے کا حکم دیا ہے وہ انسان کے لیے ہر اعتبار سے مفید ہیں اور جن سے منع فرمایا ہے وہ روحانی اور جسمانی لحاظ سے انتہائی نقصان دہ ہیں۔ بعض لوگ اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں کی حرمت کی وجوہات معلوم کرنے بیٹھ جاتے ہیں۔ اگر کوئی غیر مسلم کو مطمئن کرنے کے لیے ایسا کرتا ہے تو اس میں حرج کی بات نہیں۔ اگر یہ کاوش اس لیے کی جائے کہ حرمت کی حکمت سمجھے بغیر وہ اس سے رکنے کے لیے تیار نہیں تو ایسے شخص کو اپنے ایمان پر غور کرنا چاہیے۔ بھلا کون سی حکومت ہے جو اپنے تمام قوانین کی توجیہ بیان کرتی ہو؟ اس طرح تو قانون کا حجم پھیلتا ہی چلا جائے گا۔ اگر حکم کی حکمت جاننے کے بعد اس پر عمل کرتا ہے تو پھر اتھارٹی کی کیا حیثیت رہ جائے گی؟ حکمت جانے اور اطمینان کیے بغیر حکم نہ ماننے والے شخص نے تو اپنی عقل اور اطمینان کو خدا کا درجہ دے دیا ہے۔ اکل حلال کا حکم دینے کے بعد یہاں چار بڑے محرمات کا ذکر کیا گیا ہے : (1) ہرقسم کے مردار کھانے سے منع کیا گیا ہے سوائے دوچیزوں کے رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرمایا کرتے تھے : (اُحِلَّتْ لَنَا مَیْتَتَانِ اَلْحُوْتُ وَالْجَرَادُ) [ رواہ ابن ماجہ : کتاب الصید، باب صید الحیتان والجراد] ” ہمارے لیے دو مردار حلال کیے گئے ہیں۔ مچھلی اور ٹڈی۔“ (2) نزول قرآن کے وقت وحشی قبائل نہ صرف مردار کھایا کرتے بلکہ وہ جانوروں کا خون بھی پی جاتے تھے۔ جس طرح آج بھی افریقہ کے کئی وحشی قبائل جانوروں کا ہی نہیں بلکہ انسانوں کا بھی خون پینے سے گریز نہیں کرتے۔ جدید تحقیق کے مطابق خون میں کئی ایسے جراثیم ہوتے ہیں جن سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا علاج ممکن نہیں ہوتا۔ تبھی تو اللہ تعالیٰ نے مردہ یا زندہ جانور کا خون پینے سے منع فرما دیا ہے البتہ کسی کی زندگی بچانے کے لیے خون کا میڈیکل استعمال جائز ہے۔ (3) خنزیر کا گوشت کھانا بھی حرام ہے۔ اس کے بارے میں جدید اور قدیم اطباء کا اتفاق ہے کہ اس کا گوشت کھانے سے انسان کے جسم میں نہ صرف مہلک بیماریاں پیدا ہوتی ہیں بلکہ آدمی میں بے حیائی اور بے شرمی کے جذبات ابھرتے ہیں۔ کیونکہ خنزیر جانوروں میں سب سے زیادہ بے غیرت جانور ہے۔ کوئی بھی جانور اپنی جنم دینے والی مادہ کے ساتھ اختلاط کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا جب کہ خنزیر کی طبیعت میں اس کام میں کوئی جھجک نہیں پائی جاتی۔ (4) غیر اللہ کے نام پر ذبح کی یا پکائی ہوئی چیز اس لیے حرام کی گئی کہ اس سے روح، عزت اور ایمان کی موت واقع ہوتی ہے۔ ایک غیرت مند ایماندار سے یہ کس طرح توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ گردانے گئے شریک کے نام پر چڑھائی گئی چیز کھانے یا اسے استعمال کرنے پر آمادہ ہوجائے ؟ یہ نہ صرف غیرت ایمانی کے منافی ہے بلکہ فطرت بھی اس بات کو گوارا نہیں کرتی بشرطیکہ کسی کی فطرت مسخ نہ ہوچکی ہو۔ فطرت سلیم کا ثبوت اس فرمان کے نازل ہونے سے پہلے مکہ میں پایا گیا ہے۔ (عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أَ نَّہٗ لَقِیَ زَیْدَ بْنَ عَمْرِ و بْنِ نُفَیْلٍ بِأَسْفَلَ بَلْدَحٍ وَذَاکَ قَبْلَ أَنْ یُّنْزَلَ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) الْوَحْیُ فَقُدِّمَتْ إِلَی النَّبِیِّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سُفْرَۃٌ فَأَبٰی أَنْ یَّأْکُلَ مِنْھَا ثُمَّ قَالَ زَیْدٌ إِنِّیْ لَسْتُ آکُلُ مِمَّا تَذْبَحُوْنَ عََلٰی أَنْصَابِکُمْ وَلَا آکُلُ إِلَّا مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اللّٰہِ عَلَیْہِ) [ رواہ البخاری : کتاب الذبائح والصید] ” وحی نازل ہونے سے پہلے بلدح کے نشیبی علاقے میں رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ملاقات زید بن عمر وبن نفیل سے ہوئی۔ رسول معظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ایک دستر خوان لایا گیا جس پر غیر اللہ کے نام کی کوئی چیز تھی۔ آپ نے کھانے سے انکار کردیا۔ اسکے ساتھ ہی جناب زید نے کہا کہ میں بھی ان ذبیحوں کا گوشت نہیں کھاتا جو تم اپنے آستانوں پر ذبح کرتے ہو اور نہ ان جیسی کوئی اور چیز کھاتاہوں سوائے اس چیز کے جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو۔“ ابو قلابہ کہتے ہیں : (حَدَّثَنِیْ ثَابِتُ بْنُ الضَّحَاکِ (رض) قَالَ نذَرَ رَجُلٌ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أَنْ یَنْحَرَ إِبِلًا بِبُوَانَۃَ فَأَتَیالنَّبِیَّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فَقَالَ إِنِّیْ نَذَرْتُ أَنْ أَنْحَرَ إِبِلًا بِبُوَانَۃَ فَقَال النَّبِیُّ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ھَلْ کَانَ فِیْھَا وَثَنٌ مِنْ أَوْثَانِ الْجَاھِلِیَّۃِ یُعْبَدُ قَالُوْا لَا قَالَ ھَلْ کَانَ فِیْھَا عِیْدٌ مِنْ أَعْیَادِھِمْ قَالُوْا لَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) أَوْفِ بِنَذْرِکَ فَإِنَّہٗ لَاوَفَاءَ لِنَذْرٍ فِیْ مَعْصِیَۃِ اللّٰہِ وَلَا فِیْمَا لَا یَمْلِکُ ابْنُ آدَمَ) [ رواہ أبوداوٗد : کتاب الأیمان والنذور باب مایؤمربہ من وفاء النذر] ” مجھے ثابت بن ضحاک (رض) نے بتایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں ایک آدمی نے بوانہ نامی جگہ پر اونٹ ذبح کرنے کی نذر مانی۔ اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر عرض کی میں نے نذر مانی ہے کہ میں بوانہ نامی جگہ پر اونٹ ذبح کروں گا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا وہاں جاہلیت کے بتوں میں سے کوئی بت تھا جس کی عبادت کی جاتی تھی؟ صحابہ نے عرض کیا نہیں۔ آپ نے پھر پوچھا : کیا وہاں کوئی ان کا میلہ لگتا تھا؟ صحابہ نے نفی میں جواب دیا تو آپ نے فرمایا : اپنی نذر پوری کرو کیونکہ اللہ کی نافرمانی والی نذر پوری نہیں کرنا چاہیے اور نہ ہی وہ نذر پوری کرنالازم ہے جس کی انسان طاقت نہیں رکھتا۔“ اللہ تعالیٰ کا رحم وکرم تو دیکھیے کہ ان چار چیزوں سے سختی کے ساتھ منع کرنے کے باوجود ایسے شخص کے لیے ان کو کھانے کی اجازت دی ہے جسے زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھنے کا شدید خطرہ لاحق ہوگیا ہو۔ لیکن اس کے ساتھ یہ شرط رکھی کہ نہ وہ پہلے سے ان چیزوں کے کھانے کا عادی ہو اور نہ ہی حرام خوری کی طرف اس کا دل مائل ہو۔ عمومًا یہ سمجھا جاتا ہے کہ جس جانور پر ذبح کرتے وقت اللہ کے سوا کسی دوسرے کا نام لیا جائے، صرف وہی حرام ہوتا ہے۔ یہ تصور بالکل غلط ہے، کیونکہ قرآن کے الفاظ میں نہ جانور کا ذکر ہے نہ ذبح کا بلکہ ” ما“ کا لفظ ہے جس میں عمومیت پائی جاتی ہے۔ لہٰذا اس کا معنی یہ ہوگا کہ جو چیز کسی بزرگ‘ دیوی، دیوتا کا تقرب حاصل کرنے اور اس کے نام پر مشہور کردی جائے جیسے امام جعفر کے کو نڈے، بی بی کی صحنک، مزار کے لیے بکرا وغیرہ یہ سب چیزیں حرام ہیں۔ بعض علماء لوگوں کو دھوکہ دینے کے لیے کہتے ہیں دودھ، چاول حلال ہیں اگر کوئی چیز کسی کے نام پر پکائی جائے یہ حرام کس طرح ہوگئی بے شک وہ چیزجو فی نفسہٖ حلال ہو اور اس پر ذبح کے وقت اللہ کا نام ہی کیوں نہ لیا جائے وہ حرام ہی رہے گی۔ کیونکہ غیر اللہ کے نام کی نیت رکھنے سے ہی وہ چیز حرام ہوجائے گی۔ اس لیے کہ اللہ کی عطا کردہ چیزوں کی قربانی یا نذر ونیاز صرف اسی کے نام کی ہونا چاہیے اس میں کسی کو شریک نہ بنایا جائے۔ ہاں اگر کوئی شخص صدقہ وخیرات یا قربانی کرتا ہے اور اس سے اس کی نیت یہ ہو کہ اس کا ثواب میرے فوت شدہ والدین یا فلاں رشتہ دار یا فلاں بزرگ کو پہنچے تو اس میں کوئی حرج نہیں، یہ نیک عمل ہے اور سنت سے ثابت ہے۔ مسائل ١۔ مردار کھانا، خون پینا، خنزیر کا گوشت اور غیر اللہ کے نام کی چیز کھانا ہمیشہ کے لیے حرام ہے۔ ٢۔ بھوک کی حالت میں مرنے کے خوف سے یہ چیزیں معمولی مقدار میں کھانے پر کوئی گناہ نہیں۔ ٣۔ اللہ تعالیٰ مجبوری کے عالم میں حرام کھانے والوں کو معاف کرنے والا‘ مہربان ہے۔ تفسیربالقرآن اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ اشیاء : ١۔ مردار‘ خون‘ خنزیر کا گوشت‘ غیر اللہ کے نام پر مشہور کی ہوئی چیز‘ گلا گھٹنے سے مرا ہوا جانور کسی چوٹ سے مرا ہوا‘ اونچی جگہ سے گر کر مرا ہوا‘ سینگ لگنے سے مرا ہوا‘ جسے درندوں نے پھاڑ کھایا ہو اور جو آستانوں پر ذبح کیا جائے حرام ہیں۔ (المائدۃ: ٣) ٢۔ جس کو ذبح کرتے وقت اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو وہ بھی حرام ہے۔ (الانعام : ١٢١)