سورة یوسف - آیت 108

قُلْ هَٰذِهِ سَبِيلِي أَدْعُو إِلَى اللَّهِ ۚ عَلَىٰ بَصِيرَةٍ أَنَا وَمَنِ اتَّبَعَنِي ۖ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ

ترجمہ ترجمان القرآن - مولانا ابوالکلام آزاد

(اے پیغمبر) تم کہہ دو میری راہ تو یہ ہے، میں اس روشنی کی بنا پر جو میرے سامنے ہے اللہ کی طرف بلاتا ہوں اور (اس راہ میں) جن لوگوں نے میرے پیچھے قدم اٹھایا ہے وہ بھی (اسی طرح) بلاتے ہیں، اللہ کے لیے پاکی ہو، میں شرک کرنے والوں میں نہیں۔

تفسیر فہم القرآن - میاں محمد جمیل

فہم القرآن ربط کلام : مشرکین کے ایمان کی نفی کرنے کے بعد نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی دعوت کی وضاحت اور آپ کے طریقہ دعوت کی تشریح پیش کی جاتی ہے۔ اے نبی! آپ وضاحت فرمائیں کہ میرا راستہ اور میری دعوت لوگوں کو اللہ کی طرف بلانا ہے۔ نہایت دانائی اور خدا دادبصیرت کے ساتھ یہی میرے متبعین کا راستہ اور دعوت ہے۔ ان کو بتادیں کہ ہمارا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ذات اور صفات کے حوالے سے ہر قسم کے شرک سے مبرا ہے اور ہم کسی طرح بھی مشرکین سے نہیں ہیں۔ اس آیت میں نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زبان اطہر سے کہلوایا گیا ہے کہ آپ خود یہ اعلان فرمائیں کہ میرا راستہ اور میری دعوت یہ ہے کہ میں لوگوں کو نہایت دانائی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی طرف بلاؤں۔ یہ بات پہلے بھی عرض کی جاچکی ہے کہ عقیدہ کے متعلق جتنی اہم باتیں ہیں۔ ان کے اظہار کے لیے پہلے قل کا لفظ لایا جاتا ہے۔ حالانکہ سارا قرآن اور شریعت نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہی بیان کی ہے۔ آپ کی بیان کردہ ہر بات اہم اور واجب الاتباع ہے لیکن اس کے باوجود بنیادی اور مرکزی باتوں کے لیے حکم ہوتا ہے کہ اے نبی! آپ اعلان فرمائیں کہ میری زندگی کا مشن یہ ہے کہ حالات جیسے بھی ہوں میں خدا داد بصیرت کے ساتھ لوگوں کو اللہ کی طرف بلاتا رہوں۔ اللہ کی طرف بلانے کا معنی اس کی توحید اور احکام کی طرف دعوت دینا ہے۔ جو میرا سچا فرمانبردار ہے اس کا بھی یہی راستہ ہے اور ہونا چاہیے۔ ہمارا مشرکوں کے ساتھ کوئی رشتہ ناطہ نہیں ہے۔ مشرک کے ساتھ رشتہ نہ رکھنے کا صرف یہ مطلب نہیں ایک سچے امتی کا مشرکوں جیسا عقیدہ اور عمل نہیں ہونا چاہیے۔ قرآن مجید نے مشرکوں سے نکاح حرام قرار دیا اور ان سے قلبی محبت سے منع کیا ہے۔ (البقرۃ: ٢٢١) داعی کی چیدہ چیدہ صفات : ١۔ داعی کو وحی الٰہی کی پیروی کرنا چاہیے۔ (یونس : ١٥) ٢۔ داعی کو سب سے پہلے مسلمان یعنی ” اللہ“ کا تابع دار ہونا چاہیے۔ (الانعام : ١٦٣) ٣۔ داعی کا لباس پاک صاف ہونا چاہیے۔ (المدثر : ٤) ٤۔ داعی کو لالچ سے گریز کرنا چاہیے۔ (المدثر : ٦) ٥۔ داعی کو ہر وقت کمر بستہ رہنا چاہیے۔ (المدثر : ٢) ٦۔ داعی کو حکمت اور خیر خواہی کے ساتھ دعوت دینا چاہیے۔ (النحل : ١٢٥) ٧۔ داعی کو برائی کا جواب برائی سے نہیں دینا چاہیے۔ (حم السجدۃ: ٣٤) ٨۔ داعی کو صابر ہونا چاہیے۔ ( المدثر : ٧) ٩۔ داعی کو عملی نمونہ پیش کرنا چاہیے۔ (یونس : ١٦) مسائل ١۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتے تھے۔ ٢۔ اللہ تعالیٰ ہر نقص اور عیب سے پاک ہے۔ ٣۔ رسول کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مشرکوں سے برأت کا اظہار فرماتے تھے۔ تفسیر بالقرآن انبیاء کرام (علیہ السلام) کا شرک سے براءت کا اظہار : ١۔ آپ فرما دیں اللہ تعالیٰ پاک ہے اور میں مشرکوں میں سے نہیں ہوں۔ (یوسف : ١٠٨ ) ٢۔ کہہ دیجیے اللہ ایک ہے بے شک میں تمہارے شرک سے بری ہوں۔ (الانعام : ١٩ ) ٣۔ حضرت ابراہیم نے کہا اے میری قوم! میں تمہارے شرک سے برأت کا اظہار کرتا ہوں۔ (الانعام : ٧٨ ) ٤۔ ھود (علیہ السلام) نے کہا میں اللہ کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی بنالو میں تمہارے شرک سے بیزار ہوں۔ (ہود : ٥٤ ) ٥۔ بے شک اللہ اور اس کا رسول مشرکوں سے بری ہے۔ (التوبۃ: ٣ ) ٦۔ ابراہیم نے اپنی قوم سے کہا ہم تم سے اور تمھارے باطل معبودوں سے بری الذمہ ہوں۔ (الممتحنۃ: ٤)